17 نومبر 2018
تازہ ترین
شہری تشدد کیس، عمران شاہ کو سرعام تھپٹر مارے جائیں گے، چیف جسٹس

تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عمران علی شاہ کی جانب سے شہری پر تشدد سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عزت کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا، عمران شاہ کو بھی سرعام اسی طرح 4 تھپٹر مارے جائیں گے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عمران علی شاہ تشدد از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے عمران شاہ کی سرزنش کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ نے کیا سوچ کر شہری کو تھیٹر مارا، کوئی جانور کو بھی اس طرح نہیں مارتا، یہ ناقابل معافی جرم ہے، ہم نہیں چھوڑیں گے، آپ عوام کے نمائندے ہیں تو اس طرح تشدد کریں گے، میں باہر آتا ہوں، مجھے مار کر دکھائیں۔ جس پر عمران علی شاہ نے اظہار ندامت کرتے ہوئے کہا کہ سوری سر، میں شرمندہ ہوں۔ چیف جسٹس نے عمران شاہ سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ کیا سوری، میں نے بچپن میں ملازم کو بیلٹ سے مارا تھا، میرے والد نے بھی مجھے دو بار سبق سکھانے کے لئے مارا تھا۔ چیف جسٹس نے تشدد کا نشانہ بننے والے دائود چوہان سے استفسار کیا کہ عزت کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا، آپ معاوضہ لے کر بیٹھ گئے، آپ نے کیوں معاف کیا، جس پر دائود چوہان نے کہا کہ نامزد گورنر میرے گھر پر چل کر آئے۔ چیف جسٹس نے عمران شاہ سے استفسار کیا کہ آپ نے کتنے تھپٹر مارے تھے، عمران شاہ نے بتایا کہ 4 تھپٹر مارے تھے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو بھی سر عام اسی طرح 4 تھپٹر مارے جائیں گے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟