17 نومبر 2018
تازہ ترین
شہروں کی آلودہ ہوا کوصاف کرنے والاغیرمعمولی ویکیوم کلینرتیار

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا میں فضائی آلودگی اس سطح پر جاپہنچی ہے کہ دنیا کی 90 فیصد آبادی ’’گندی ہوا‘‘ میں سانس لینے پر مجبور ہے جو ان میں کئی امراض کی وجہ بن رہا ہے۔ ہالینڈ کی ایک کمپنی نے ایسا ویکیوم کلینر طرز کا فلٹر تیار کیا ہے جس کی لمبائی 8 میٹر ہے اور اسے عمارتوں کی چھتوں پر لگا کر اطراف کی ہوا کو صاف کرنےکے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔کمپنی کے مطابق یہ ہوائی فلٹر 300 میٹر قطر میں 4 میل کی دوری اور 7 کلومیٹر اوپر کی جانب موجود ہوا کو کھینچ کر انہیں صاف رکھ سکتا ہے۔ اندازہ ہے کہ ایک گھنٹے میں یہ 8 لاکھ مکعب میٹر ہوا کو صاف کرسکتا ہے اور آلودگی کے چھوٹے ذرات کو 100 فیصد صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس ویکیوم کلینیر کے ایک جانب سے ہوا اندر داخل ہوتی ہے اور دوسری جانب سے صاف ہوا باہر نکلتی ہے۔ اس میں دھویں، آلودگی اور کاربن کے ذرات پھنس جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہوائی جہاز سے خارج ہونے والی آلودگی دماغی امراض کی وجہ بن سکتی ہے جس کے ثبوت موجود ہیں۔انداز ہے کہ ہوائی آلودگی سے پوری دنیا میں 60 لاکھ سے زائد افراد ہر سال لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ چین کے شہر بیجنگ میں بھی ایسے بڑے بڑے ٹاور لگائے گئے ہیں جو ہوا کو صاف کرتے ہیں اور آلودگی جذب کرتے ہیں۔ ایک ٹاور ایک گھنٹے میں  1,059,440 مکعب فٹ ہوا صاف کرتا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟