19 جنوری 2019
تازہ ترین
شٹ ڈائون مسئلہ، ٹرمپ اور کانگریس اراکین کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عارضی شٹ ڈائون کے خاتمے کے لئے کئے جانے والے مذاکرات سے اٹھ کر چلے گئے اور اسے وقت کا ضیاع قرار دے دیا۔ میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر کے لیے 5 بلین ڈالرز کے فنڈز کے تقاضے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن اراکین کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے اور اس سلسلے میں مذاکرات کی ایک اور کوشش ناکام ہوگئی۔ امریکا میں جزوی شٹ ڈائون کے باعث 9 مختلف محکموں کے 8 لاکھ وفاقی ورکرز اور متعدد ایجنسیوں کے ورکرز کام نہیں کر رہے، شٹ ڈائون کے باعث امیگریشن نظام بری طرح متاثر ہے اور عدالتی نظام بھی شدید بحرانی صورتحال کا شکار ہے۔ وائٹ ہائوس میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ایوان نمائندگان کے اراکین نینسی پیلوسی اور چک شومر کے درمیان ہونی والی ملاقات بے نتیجہ ختم ہوگئی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کا احوال بتاتے ہوئے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا جس میں بتایا کہ وہ نینسی اور چک شومر کے ساتھ ہونے والے مذاکرات چھوڑ کر آگئے جو صرف وقت کا ضیاع تھا۔ امریکی صدر نے کہا کہ میں نے ان سے پوچھا اگر یہی صورتحال رہی تو 30 دن میں کیا ہوگا، اور بارڈر سیکیورٹی کے لیے دیوار یا خاردار تار کی وہ منظوری دے رہے ہیں یا نہیں؟۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ان کے سوال پر مذاکرات میں شریک نینسی نے کہا ٴ نہیںٴ جس پر وہ ٴ بائے بائےٴ کہہ کر واپس آگئے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر نے قوم سے خطاب کے دوران میکیسکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر کے عزم کو دہرایا اور کہا کہ میکسیکو کی سرحد پر انسانی بحران جنم لے رہا ہے جو دل اور روح کا بحران ہے۔ اوول آفس میں تقریر کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دیوار کی تعمیر صحیح اور غلط، انصاف اور ناانصافی کے درمیان فرق کا انتخاب ہے، ڈیموکریٹس وائٹ ہائوس دوبارہ آئیں اور مذاکرات کریں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟