26 ستمبر 2018
تازہ ترین
  شام میں شدید لڑائی، 100افراد ہلاک

ادھر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ اگر شام میں فوجی مداخلت نہ کرتے تو دمشق کا دو سے تین ہفتوں میں سقوط ہوجاتا اور دہشتگرد اس پر قابض ہوجاتے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق دیرالزورشہر میں داعش نے حکومت کی عمل داری والے علاقے پر حملہ کیا تھا جس کے بعد ان کی شامی فوج سے لڑائی چھڑ گئی۔ رصدگاہ کا کہنا تھا کہ لڑائی میں فوج اور اس کی اتحادی ملیشیا کی 28 ہلاکتیں ہوئی ہیں ،14 عام شہری مارے گئے ہیں جبکہ داعش کے کم سے کم 40 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران میں شہر میں لڑائی میں یہ سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔ شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا تھا کہ فوج نے داعش کے ٹھکانوں پر حملے کئے ہیں اور اس نے دسیوں جنگجوئوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ دوسری طرف عالمی ادارے نے علاقے میں شدید لڑائی کے باعث دیر الزور میں امداد کی فراہمی معطل کر دی ہے۔ روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ اگر شام میں فوجی مداخلت نہ کرتے تو دمشق کا دو سے تین ہفتوں میں سقوط ہوجاتا اور دہشتگرد اس پر قابض ہوجاتے۔ منگل کے روز ایک نیوزکانفرنس میں انہوں نے کہا ہے کہ روس شام کی حمایت جاری رکھے گا کیونکہ ان کے پاس ایسی اطلاع ہے کہ بعض یورپی ممالک شام امن مذاکرات کو سبوتاږکرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ یورپی ممالک آستانہ مذاکرات کے حوالے سے خود کو الگ تھلگ محسوس کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ یہ ممالک مذاکرات کو سبوتاږ کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟