سیپیوں سے بنایا گیا جزیرہ

برٹش ورجن آئی لینڈ کے قریب مشرق میں اینی گاڈا نامی ایک مقام ہے جہاں سیپیوں کا ایک ڈھیر چھوٹے سے جزیرے کی مانند دکھائی دیتا ہے اور یہاں سینکڑوں برسوں سے ماہی گیر مرغولے دار بڑی سیپیاں لاکر پھینکتے رہے اور اب یہاں لاکھوں سیپیاں جمع ہوچکی ہیں۔ اس علاقے میں لوگ سیپیوں کے صدفے کھانے بھی آتے ہیں اور اس کی سیپیاں بھی اسی جزیرے پر پھینک جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ باقاعدہ کوئی جزیرہ تو نہیں لیکن یہ جزیرہ نما ضرور بن گیا ہے اور اب دنیا بھر سے لوگ اسے دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ نیلے آسمان تلے نیلگوں پانی میں چھوٹی بڑی سیپیوں سے بنا یہ جزیرہ ایک خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ تاہم اکثر سیپیاں ٹوٹی پھوٹی ہیں کیونکہ ان سے گوشت نکالنے کے لئے اس میں سوراخ کیا جاتا ہے اور ایک مرتبہ سیپی ٹوٹنے پر یہ مزید ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہوتی جاتی ہیں۔ لیکن یہ سیپیاں تاریخ کا ایک اہم سبق بھی رکھتی ہیں ۔ ماہرین نے نیچے سے انتہائی پرانی سیپیاں نکال کر جب ان کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کے ذریعے عمر معلوم کی تو کچھ سیپیوں کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ 1245 سال تک پرانی ہیں۔ خیال ہے کہ قدیم آراواک باشندوں نے یہاں سیپیوں کے ڈھیر لگائے تھے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟