22 اکتوبر 2019
تازہ ترین
  سیلز ٹیکس ریفنڈ میں 5 ارب  گھپلے کا انکشاف

  سیلز ٹیکس ریفنڈ میں 5 ارب گھپلے کا انکشاف

 ایف بی آر  میں سیلز ٹیکس  ریفنڈ  میں 5ارب روپے کی مالی بدعنوانیوں  کا  انکشاف ہوا ہے  کرپٹ افسران نے امرا  طبقہ سے  ملی بھگت  کرکے قومی خزانہ  کو  اربوں  روپے کا نقصان پہنچا رکھا ہے  چیئرمین ایف بی آر  کے پاس دستاویزاتی  ثبوت ہونے کے باوجود  کرپٹ افسران  کیخلاف کوئی  ایکشن نہیں لیا گیا ہے ۔ ایف بی آر حکام نے ملک کے امرائ تاجروں  اور مل مالکان  سے  لوٹے گئے اربوں  روپے واپس لینے  کی بجائے   ملک کے غریب طبقے  پر مزید ٹیکسز عائد کرنے کا طریقہ اپنایا ہے  وزارت خزانہ  بھی ایف بی آر  پر اپنے کنٹرول  قائم رکھنے میں ناکام  ہوگئی ہے  نواز شریف کے  برسر اقتدار  میں آنے کے بعد  ملک میں ٹیکس چوری سیلز ٹیکس  ریفنڈ  اور انکم ٹیکس  ادائیگی میں کمی واقع ہوئی ہے  سرکاری دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ  ایف بی آر حکام  نے 1707 امرائ سے  پانچ ارب 26 کروڑ روپے سے زائد کا انکم ٹیکس  وصول ہی نہیں کیا ہے  اور نہ ان کو کوئی نوٹسز جاری  ہوئے ہیں  یہ انکم ٹیکس  نادہندگان  2013ئ سے انکم ٹیکس ادا نہیں کررہ ہیں  جب سے   نواز شریف نے اقتدار سنبھالا ہے  دستاویزات کے مطابق  صرف 64لاکھ روپے کے مقدمات  عدالت میں زیر سماعت ہیں   جبکہ باقی کیسز  میں ایف بی آر  نے کوئی  ایکشن  بھی نہیں لیا ہے دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ  ایف بی آر میں  633 رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان  نے ایک ارب  پچاس کروڑ روپے کم سیلز ٹیکس  اور فیڈرل ایکسائز   ڈیوٹی جمع  نہیں  کرائیں  ہیں جبکہ ایف  بی آر نے ان کو نہ نوٹسز  جاری کئے ہیں  اور ان کیخلاف کوئی کارروائی کی ہے  رپورٹ کے مطابق اسلام آباد اور کراچی  کے امیر طبقہ  کے 815 افراد نے  اپنے پروڈکٹس  کیلئے   کروڑوں روپے کے اشتہارات  جاری کئے تھے  لیکن قومی خزانہ   میں نہ کوئی سیلز ٹیکس جمع کرایا ہے اور نہ  انکم ٹیکس جمع  کرایا ہے ایف بی آر   کے بڑے حکام نے  بھی اس پر خاموشی اختیار کررکھی ہے  ان کے ذمہ  دو ارب چونسٹھ   کروڑ روپے کا ٹیکس واجب الادا بنتے تھے  ایک اور رپورٹ  میں انکشاف ہوا ہے کہ  ملک کے تاجر طبقہ  نے اڑھائی ارب روپے  کی ٹیکس چوری کر رکھی ہے  اور اس طبقہ نے   اپنے کاروبار کے بارے میں  حقائق ایف بی آر  کو فراہم نہیں کئے ہیں  رپورٹ کے مطابق  ایف بی آر کی کرپٹ مافیا نے 516ریفنڈ   کیسز میں تاجروں کے ساتھ ملی بھگت  کرکے  دو ارب روپے سے زائد کا نقصان قومی خزانہ کو پہنچایا ہے ایف بی آر نے ان کلیم کے جواب میں ان لوگوں کے بینکنگ ٹرانزیکشن  کا ریکارڈ  کی جانچ پڑتال بھی نہیں کی اور خالی  کاغذو ں پر  دو ارب سے زائد کی ادائیگی کررکھی ہے  رپورٹ کے مطابق  ایف بی آر کے سولہ ڈائریکٹوریٹ  نے دو ارب پندرہ  کروڑ روپے کے ریفنڈ   356تاجروں  اور صنعتکاروں  کو ادا کررکھے ہیں   اور ان میں بھاری مالی بدعنوانیاں  سامنے  آئی ہیں   چیئرمین ایف بی آر  کو دستاویزاتی  ثبوت ملنے کے باوجود کرپٹ مافیا کیخلاف  کارروائی عمل  میں نہیں لائی جاسکی  اور کرپٹ  افسران  ابھی بھی اہم پوسٹوں پر تعینات ہیں۔ 


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟