18 اگست 2019
تازہ ترین
 سیاستدان کرپٹ،  ایٹمی صلاحیت 1983ئ میں ہی حاصل کرلی تھی،  قدیر

 سیاستدان کرپٹ،  ایٹمی صلاحیت 1983ئ میں ہی حاصل کرلی تھی،  قدیر

 ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدید خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت 1983ئ میں ہی حاصل کرلی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا لیکن افغان جنگ کے باعث جنرل ضیائ الحق نے اسے ملتوی کردیا ٖآج تک حکومت سے کوئی مراعات حاصل نہیں کی، کرپٹ سیاست دانوں اوربیوروکریٹس نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں پھنسایا۔اپنے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مزید کہا کہ جب ہندوستان نے 1973ئ میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تو سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مجھے ہالینڈسے بلایا اور مجھے کہاکہ ہمیں ہر صورت میں ایٹم بم بنانا ہے  لیکن بعض حالات کی وجہ سے  کام نہ ہو سکا لیکن جب جنرل ضیائ الحق حکومت میں تھے ایک بار پھر مجھے بلایا گیا اورایٹمی بم بنانے کا کہا،پاکستان کی خاطر اپنی کشتیاں جلا کر اپنے بچوں کے ہمراہ آیا تو دیکھا جو میں کام شروع کیا تھا وہ ا سی طرح کا پڑا ہواہے  جب ضیائ الحق نے مجھے کام سونپا تو میں چند سالوں میں اسے پایا تکمیل تک پہنچادیا اور نگرانی اپنے پاس رکھی میں نے کام مکمل کرکے ضیائ الحق کی میز پررپورٹ رکھی اورکہاکہ آپ جب کہیں گے ایٹمی بم کا دھماکہ کردیں گے جس پر جنرل ضیائ الحق بہت حیران ہوئے  جب ہندوستان نے1998ئ میں دوبارہ ایٹمی دھماکہ کیا تو ہم نے بھی اعلان کردیا کہ ہم بھی اپنے ایٹمی دھماکہ کریں گے پوری دنیا میں ہلچل پیدا ہوگئی اورامریکہ یورپ سمیت دنیا بیشتر ممالک ہمیں ایٹمی دھماکہ نہ کرنے پر زور ہی نہیں بلکہ دھمکیاں بھی ملنے لگی اور ڈالر کا لالچ بھی دیا گیا اگر ہم دھماکہ نہ کرتے ہوئے ہندوستان ہمارے شہروں لاہور ،گوجرانوالہ ،گلگت سکردو تک قابض ہوجاتا، افسوس ہے کہ ہم ایٹمی قوت بننے کے باوجود اس سے استفادہ نہیں کرپائے اگر اس وقت میری تجاویز کو مان لیا ہوتا تو آج ہم لوڈشیڈنگ کے ناسور میں مبتلا نہ ہوتے۔  


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟