20 نومبر 2018
تازہ ترین
سکولوں میں دوبارہ بلیک بورڈ اور چاک متعارف

سکولوں میں دوبارہ بلیک بورڈ اور چاک متعارف لندن برطانیہ کے کئی سکولوں میں ٹیبلٹ، الیکٹرانک وائٹ بورڈ اور لیپ ٹاپ کی جگہ دوبارہ روایتی بلیک بورڈ اور چاک کا طریقہ متعارف کرایا گیا۔ ایک مطالعے کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ انٹر ایکٹو الیکٹرانک بورڈز اور ٹیبلٹ کی جگہ اگر روایتی تختہ سیاہ اور چاک سے پڑھایا جائے تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ایک برطانوی این جی او کے مطابق اس عمل پر کمزور طلبہ و طالبات بھی یکساں طور پر فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دوسری جانب الیکٹرانک آلات کی بجائے بچوں اور ٹین ایجرز کو روایتی انداز میں پڑھایا جائے تو وہ تیزی سے سبق سیکھتے ہیں اور اس کے اخراجات بھی بہت کم ہوتے ہیں۔ برطانیہ بھر کے سکولوں میں تین سال تک یہ تجربات کئے گئے اور اس میں کہا گیا کہ بچوں کو سلیٹ پر لکھنا سکھایا جائے تو اس کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اول تو استاد ازخود فوری طور پر جواب معلوم کر لیتا ہے جس کے بعد استاد فرداً فرداً ہر بچے کی فوری رہنمائی کر سکتا ہے۔ تجرباتی طور پر یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ الیکٹرانک آلات کی بجائے چاک، بلیک بورڈز سے بچوں کو پڑھایا جائے تو صرف دو ماہ بعد ہی بچوں کے امتحانی گریڈ میں واضح اضافہ ہوتا ہے۔ یعنی دو ماہ تک بھی چاک اور بورڈز پر پڑھانے سے واضح فرق سامنے آجاتا ہے تاہم ٹیبلٹس کے لئے سلیٹ کی طرح کام کرنے والی اگر کوئی ایپ بنالی جائے تو بھی اس کے فوری فوائد سامنے آتے ہیں۔ یہ سروے برطانیہ کی مشہور تعلیمی این جی او دی ایجوکیشن اینڈائومنٹ فائونڈیشن  نے کیا اور اس بنا پر 140 سکولوں میں دوبارہ بلیک بورڈ اور چاک سے پڑھائی شروع کرا دی ہے۔ اس مطالعے میں سیکڑوں سکول شامل تھے اور مجموعی طور پر 25 ہزار  بچوں کا تین سال تک مطالعہ کیا گیا۔ ماہرین تعلیم نے چاک اور بورڈ کے نتائج کو اس لئے موثر ثابت پایا کیونکہ اس میں بچے کی صلاحیت ہاتھوں ہاتھ سامنے آجاتی ہے۔ تین سال بعد معلوم ہوا کہ اچھے طالب علموں کی صلاحیتیں مزید بہتر ہوئیں اور اوسط طلبہ و طالبات کی کارکردگی بھی اچھی ہوتی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیبلٹ پر دیئے گئے جوابات کو استاد بعد میں چیک کرتا ہے جبکہ بلیک بورڈ اور سلیٹ پر لکھے گئے جوابات وہ فوری طور پر چیک کرکے بچے کی خامیوں سے آگاہ ہوتا ہے اور اسی لمحے بچے کو ہدایت اور رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ قبل ازیں جاپانی ماہرین بھی کہہ چکے ہیں کہ الیکٹرانک آلات سے بچوں کے لکھنے کی استعداد متاثر ہوتی ہے، جبکہ چھوٹی عمر میں بچوں کے لکھنے سے دماغ کے اعصاب اچھی طرح سرگرم ہوتے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟