20 ستمبر 2018
تازہ ترین
سپریم کورٹ کے ایک جج کا آسیہ بی بی کی اپیل سننے سے انکار

توہین مذہب کے الزام میں سزا پانے والی غیر مسلم خاتون آسیہ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ کے ایک جج جسٹس اقبال حمید الرحمان نے مقدمے کی سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

مجرمہ آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی کی درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو بینچ کے سربراہ جسٹس میاں ثاقب نثار نے دائیں جانب بیٹھے ہوئے جج اقبال حمید الرحمن کی ایما پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 'چونکہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے کی سماعت کر چکے ہیں اور یہ مقدمہ بھی اس سے کسی حد تک منسلک ہے اس لیے وہ اس کی سماعت نہیں کر سکتے۔'

عدالت کا کہنا تھا کہ اب نظرثانی کی اس درخواست کو واپس چیف جسٹس کو بھجوا دیا جائے گا اور وہی اس کی دوبارہ سماعت کرنے سے متعلق احکامات دیں گے۔

آسیہ بی بی پاکستان میں یہ سزا پانے والی پہلی غیر مسلم خاتون ہیں۔ وکلا کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب سپریم کورٹ نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت کسی مقدمے کی سماعت کی ہو۔ اس دفعہ کے تحت پیغمبرِ اسلام کی توہین پر پابندی عائد ہے۔

آسیہ بی بی کے خلاف جون 2009 میں توہین رسالت کے الزام میں درج مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے اپنے ہمراہ کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ بحث کے دوران پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے تھے۔ اگلے برس 2010 میں انھیں اس مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟