22 مارچ 2019
تازہ ترین
سپریم کورٹ کا اصغر خان کیس کو بند نہ کرنے کا فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان کیس کو بند نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے  اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایف آئی اے نے فائل بند کرنے کی استدعا کی ہے، لیکن ہم کیسے عدالتی حکم کو ختم کر دیں۔  اصغر خان نے اتنی بڑی کوشش کی تھی، لیکن جب عملدرآمد کا وقت آیا تو ایف آئی اے نے ہاتھ کھڑے کر دیئے، ہم اصغر خان کی کوشش رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور اس کیس کی مزید تحقیقات کرائیں گے۔  سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ہم ایف آئی اے سے جواب طلب کریں گے جبکہ کابینہ سے بھی جواب مانگیں گے کیونکہ کچھ افراد کے مقدمات کابینہ کو دیئے گئے تھے۔ ساتھ ہی چیف جسٹس نے اصغر خان کے اہلخانہ کے وکیل ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ صاحب سے کہا کہ آپ عدالت کی معاونت کریں کہ کیس کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک فیصلہ آیا اور اب عملدرآمد کے وقت ایسا ہو رہا ہے، کچھ افراد کو اس معاملے سے علیحدہ کرنے کی تجویز تھی۔ جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جبکہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ ہاں میں نے رقم تقسیم کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس کے بعد پھر کیا رہ جاتا ہے؟ چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ کیس بند کرنے کے معاملے میں اصغر خان فیملی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، اگر ایف آئی  اے کے پاس اختیارات نہیں تو دوسرے ادارے سے تحقیقات کرالیتے ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جب فیصلہ آیا تو میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سے ملا اور کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ کیا کہ اب عدالت کچھ نہ کرے تو یہی کافی ہے۔ سلمان اکرم راجا نے اس موقع پر کہا کہ اصغر خان اور آسیہ بی بی کیس کے دونوں فیصلے تاریخ ساز ہیں۔ سماعت کے آخر میں عدالت عظمیٰ نے ایف آئی اے کی طرف سے اخذ کیے گئے نتائج اور وجوہات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اصغر خان کے ورثائ کی درخواست پر ایف آئی اے سے جواب طلب کر لیا۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے سیکریٹری دفاع کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 25 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟