14 نومبر 2018
تازہ ترین
سپریم کورٹ نے جعلی اکائونٹس کیس کی تحقیقات  کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دیدی

سپریم کورٹ نے جعلی اکائونٹس کیس کی تحقیقات کے لیے 6 رکنی جے آئی ٹی تشکیل دیدی۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز جعلی بینک اکائونٹس سے متعلق کیس میں ایف آئی اے کی درخواست پر جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جعلی اکائونٹس کیس میں 6 رکنی جے آئی ٹی کی تشکیل کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ جے آئی ٹی جعلی بینک اکائونٹس کا تفصیلی جائزہ لے گی اور سراغ لگائے گی کہ سچائی کیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم جعلی بینک اکائونٹس میں ملوث افراد کے خلاف شہادتیں بھی اکٹھی کرے گی۔

حکم نامے کے مطابق جے آئی ٹی کی سربراہی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے احسان صادق کریں گے جب کہ دیگر ممبران میں کمشنر کارپوریٹ ٹیکس آفس عمران لطیف منہاس، ڈائریکٹر نیب نعمان اسلم، ایس ای سی پی کے ڈائریکٹر محمد افضل اور آئی ایس آئی کے بریگیڈیر شاہد پرویز جے آئی ٹی میں شامل ہیں۔ جے آئی ٹی کو ضابطہ فوجدرای، نیب آرڈیننس کے تحت اختیارات حاصل ہوں۔ اس کے علاوہ جے آئی ٹی کو ایف آئی اے ایکٹ اور اینٹی کرپشن قوانین کے تحت اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔ سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے کے مطابق ملک کے تمام انتظامی ادارے جے آئی ٹی کی معاونت کے پابند ہوں گے اور جے آئی ٹی 15 روز بعد پیش رفت رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گی۔

حکم نامے کے مطابق جے آئی ٹی اپنی سہولت کے مطابق سیکرٹریٹ تشکیل دےگی اور جے آئی ٹی کا کوئی رکن، نہ ہی ایف آئی اے تحقیقات سے متعلق پریس ریلیز یا اطلاع جاری کرےگا، اس کا مقصد تحقیقات کو شفاف اور موثر بنانا ہے۔

سپریم کورٹ نے رینجرز کو جے آئی ٹی ارکان اور گواہوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے تحقیقات کو اسلام آباد منتقل کرنےکی ڈی جی ایف آئی اے کی استدعا مسترد کردی اور حکم نامے میں لکھا کہ تحقیقات پر اثرانداز ہونے، رکاوٹ ڈالنے یا دبائو کی کوشش ہوئی تو درخواست کا دوبارہ جائزہ لیں گے۔ سپریم کورٹ کے حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ جعلی بینک اکائونٹس میں جے آئی ٹی کی تشکیل ناگزیر ہے اور کیس کی آئندہ سماعت 24 ستمبر کو ہو گی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟