26 ستمبر 2018
تازہ ترین
 سٹیل ملز کو 30 سالہ لیز پر دینے کی منظوری

۔ چیئرمین محمد زبیر کی سربراہی میں ہونے والے نجکاری کمیشن بورڈ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان اسٹیل ملز کے اثاثے فروخت نہیں کیے جائیں گے تاہم ادارے کو 30 سال کے لیے نجی سرمایہ کار کے حوالے کردیا جائے گا، اجلاس کے سامنے پیش کیے گئے آپشنز کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری یا پھر اسے 45 سال کے لیے لیز پر دینے کے معاملات زیر غور آئے، تاہم طویل بحث کے بعد لیز کا دورانیہ کم کرکے 30 سال کرکے اسٹیل ملز کو لیز پر دینے کی رضامندی ظاہر کردی گئی۔ نجکاری کمیشن بورڈ کے مطابق خسارے کا شکار پاکستان اسٹیل ملز کے تمام واجبات اور بقایاجات وفاقی حکومت ادا کرے گی اور نئے سرمایہ کار کو کلین بیلنس شیٹ دی جائے گی، اس کے علاوہ پاکستان اسٹیل ملز کے نئے سرمایہ کار کے لیے 5سال انکم ٹیکس ہالیڈے کی تجویز کو بھی منظور کرلیا گیا۔ علاوہ ازیں لیز حاصل کرنے والے سرمایہ کار کو پلانٹ اور مشینری امپورٹ کرنے کے لیے ڈیوٹی بھی ادا نہیں کرنی پڑے گی۔ لیز پر جاری کرنے کے بعد پاکستان اسٹیل ملز کے کسی بھی فیصلے میں تین فریق شریک ہوں گے جس میں حکومت پاکستان، پاکستان اسٹیل ملز اور سرمایہ کار شامل ہیں اور اسٹیل ملز کو ریونیو شیئرنگ کی بنیاد پر لیز پر دیا جائے گا۔ پاکستان اسٹیل ملز کی زمین حکومت پاکستان کی ہی ملکیت رہے گی۔ نجکاری کمیشن بورڈ کی اس منظوری کے بعد پاکستان اسٹیل ملز کا معاملہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری میں جائے گا جہاں اس کی حتمی منظوری دی جائے گی۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز ظفر سبحانی کی سربراہی میں ہونے والے ٹرانسیکشن کمیٹی کے اجلاس میں مشاورت کے دوران اس بات کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ لیز کے معاہدے کے تحت نئی کمپنی کو پہلے سال میں پلانٹ کی استعداد کے مطابق 25 فیصد کام کو دوبارہ شروع کرنا ہوگا، لیز کے دوسرے سال 50فیصد اور اس کے بعد پیداوار کو 85 تک لے جانا ہوگا۔ وزارت صنعت کے سیکریٹری کی جانب سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق اسٹیل ملز کی موجودہ صورتحال کی وجہ بدعنوانی، گنجائش سے زیادہ ملازمین کی بھرتی، عدم استعداد اور ادارے کی بحالی میں حکومتی عدم دلچسپی کو قرار دیا گیا تھا۔  ذرائع کے مطابق ٹرانسیکشن کمیٹی کے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی تھی اسٹیل ملز کے موجودہ اسٹاف کی تعداد 19 ہزار 700 کے قریب ہے جس میں سے حکومت 4 ہزار 835 ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی اسکیم کے ذریعے کمپنی سے نکالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟