22 اکتوبر 2019
تازہ ترین
سٹیفن ہاکنگ کی نئی کتاب منظر عام پر آگئی

سٹیفن ہاکنگ کی نئی کتاب منظر عام پر آگئی

سٹیفن ہاکنگ کی نئی کتاب منظر عام پر آگئی، جسے بریف آنسرز ٹو ڈی بگ کوئسچنز کا نام دیا گیا۔ ممتاز ریاضی داں، ماہر کونیات و فلکیات سٹیفن ہاکنگ کی یہ نئی تصنیف ماضی کی طرح ایک موضوع کے بجائے زیادہ تر ایسے مسائل پر بحث کرتی ہے جو مستقبل میں پیش آسکتے ہیں۔ سٹیفن ہاکنگ کی یہ کتاب ان کے مختلف مضامین کا مجموعہ ہے جنہیں انہوں نے گھمبیر عالمی مسائل قرار دیا  اور ان کے جوابات دینے کی کوشش بھی کی ہے۔ ہاکنگ نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ مستقبل قریب میں انتہائی امیر افراد خود اپنے اور اپنی اولاد کے ڈی این اے میں تبدیلی سے فوق انسان یعنی سپرہیومن کی دوڑ میں شامل ہوجائیں گے جبکہ بقیہ انسانیت پیچھے رہ جائے گی۔ اپنے سلسلہ مضامین میں ہاکنگ نے کہا ہے کہ جینیاتی کانٹ چھانٹ اور ڈی این اے میں تبدیلی کے بہت سے غیر معمولی طریقے سامنے آچکے ہیں جن میں ایک کرسپر (سی آر ایس پی آر) سرفہرست ہے۔ ہاکنگ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ انسانوں کا ایک ٹولہ سپرہیومن بننے کے بعد بقیہ انسانوں کو فنا کر سکتا ہے۔ ہاکنگ نے اپنے مضامین اور فیچرز میں کہا ہے کہ اس صدی کے آخر تک انسان غصہ اور نفرت سمیت اپنی بعض جبلتوں کو بدل دے گا اور اپنی ذہانت بڑھانے کی کوشش کرے گا۔ حکومتیں انسانوں کی جینیاتی تبدیلی روکنے کے قوانین ضرور بنائیں گی لیکن بعض افراد انسانی زندگی میں طوالت، بیماریوں کو روکنے اور یادداشت بڑھانے کے لئے متنازعہ انسانی جینیاتی انجینیئرنگ کا سہارا لیں گی۔ اس کتاب میں سٹیفن ہاکنگ نے مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلی جنس) کے ان دیکھے پہلوئوں پر بھی بات کی ۔ انہوں نے کہا کہ انسان ارتقائی لحاظ سے سست رفتاری سے ترقی کر رہا ہے جبکہ مصنوعی ذہانت بہت جلد اسے پیچھے چھوڑ دے گی۔ کئی میدانوں میں انسانی اے آئی کا ساتھ نہیں دے سکے گا۔ اب اگر دفاتر، کارخانوں اور فوجی انتظامات میں اسے استعمال کیا جائے گا تو ایک دن مصنوعی ذہانت خود فیصلہ کرنے کے قابل ہوکر ہم انسانوں کو ہی صفحہ ہستی سے مٹا سکتی ہے یا نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ اپنے دیگر مضامین میں ہاکنگ نے زمین کے کسی سیارچے سے ٹکرائو اور آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کو زمین کےلئے بڑے خطرات قرار دیا ۔ اسی بنا پر انہوں نے نیوکلیئر فیوږن کو توانائی کا بہترین، سب سے صاف اور ماحول دوست ذریعہ قرار دیا ۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟