19 جنوری 2019
تازہ ترین
سونف کی چائے کیل مہاسوں کیلئے مفید

سونف کو زمانہ قدیم سے طبی لحاظ سے صحت کیلئے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے جو  متعدد امراض کی روک تھام میں مدد دے سکتی ہے۔ اسے خام شکل میں کھایا جائے یا چائے کی صورت میں فائدہ ہر بار ہوتا ہے۔ سونف میں موجود آئل کو ادویات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، مگر کیا آپ نے کبھی سونف کی چائے پی ہے؟ یہ چائے وٹامن اے، سی اور ڈی کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھی بھرپور ہوتی ہے۔ سونف نظام ہاضمہ کے عمل کو بہتر بناتی ہے، اسی لئے یہ غذائیت کو جزو بدن بنانے کا عمل بھی بہتر کر دیتی ہے۔ اس طرح نقصان دہ اجزا جسم سے خارج ہوجاتے ہیں، اسی طرح جسم میں گلوکوز کی سطح بھی متوازن رہتی ہے، یہ بے وقت کھانے کی خواہش کو قابو میں کرتی ہے جبکہ جسم میں اضافی سیال کو بھی خارج کر دیتی ہے۔ جگر صحت مند ہو تو کولیسٹرول کے ٹکڑے زیادہ بہتر طریقے سے ہوتے ہیں، سونف ان غذائوں میں سے ایک ہے جو جگر کے افعال کو مناسب طریقے سے مدد کرنے میں مدد دیتی ہیں جبکہ دل کی دھڑکن بہتر ہوتی ہے۔ سونف بینائی کو بہتر کرنے کیلئے بھی فائدہ مند ہے، اس میں موجود وٹامن سی بینائی کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔ سونف میں موجود آئل ورم کش خصوصیات رکھتے ہیں اور جلدی مسائل جیسے کیل مہاسوں کے علاج میں مدد دیتے ہیں۔ سونف جلد میں موجود اضافی سیال کو خارج کر دیتی ہے جو کہ کیل مہاسوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ سونف ذیابیطس کے شکار افراد کو اس مرض سے لڑنے میں بھی مدد دیتی ہے، وٹامن سی اور پوٹاشیم کے باعث یہ بلڈ شوگر لیول کو کم کرتی ہے جبکہ انسولین کی سرگرمیوں میں اضافہ کرتی ہے، جس سے بلڈ شوگر متوازن رہتا ہے۔ سونف جراثیم کش خصوصیات کے باعث مسوڑھوں کو بھی مضبوط بناتی ہے جس سے ورم یا سوجن کی روک تھام ہوتی ہے۔ ایک طبی تحقیق میں پتا چلا کہ سونف کا استعمال سانس کے مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، اس سے نتھنے صاف ہوتے ہیں اور نظام تنفس کے امراض دور رہتے ہیں۔ یہ پھیپھڑوں کیلئے بھی فائدہ مند ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جوڑوں میں ورم کے حوالے سے سونف کا استعمال فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، یہ ایک اینٹی آکسیڈنٹ کی سرگرمیوں کو بڑھاتا ہے جس سے جوڑوں میں ورم کم ہوتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ سونف جوڑوں کے عوارض سے نجات کیلئے مفید ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟