13 نومبر 2018
تازہ ترین
 سندھ ایجوکیشن فائونڈیشن کے 52گھوسٹ سکولوں کا انکشاف

صوبہ سندھ میں سندھ ایجوکیشن فائونڈیشن کے 52 گھوسٹ سکولوں کا انکشاف ہوا ہے، جن کے لئے تقریباً 5 کروڑ روپے کا بجٹ بھی جاری کیا گیا۔ سندھ ایجوکیشن فائونڈیشن، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلنے والا ایک ادارہ ہے جو ان غریب علاقوں میں نجی سکولز کو فنڈز فراہم کرتا ہے جہاں سرکاری سکولز نہیں ہوتے۔ حال ہی میں تحقیقات کے نتیجے میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ صوبے میں فائونڈیشن کے تحت ایسے 52 سکولز ہیں، جو فنڈز تو حاصل کرتے ہیں لیکن ان کا کوئی نام و نشان نہیں یا پھر فنڈز کو درست طریقے سے استعمال نہیں کیا جا رہا۔  دستاویزات کے مطابق تمام سکول این جی اوز اور نجی شعبے کی نگرانی میں چل رہے تھے۔ دستاویزات میں گھوسٹ سکول لاڑکانہ، حیدرآباد، دادو، تھرپارکر، سانگھڑ اور میرپور خاص میں ظاہر کئے گئے۔ اس انکشاف کے بعد مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) سندھ ایجوکیشن فائونڈیشن ناہید درانی نے گھوسٹ سکول مالکان سے بجٹ واپس کرانے کے لئے محکمہ اینٹی کرپشن کو خط لکھ دیا ۔خط میں مطالبہ کیا گیا کہ گھوسٹ سکولوں کے نام پر بجٹ لینے والوں  کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سندھ حکومت کے سال18-2017 میں تعلیم کے لئے مختص 202 ارب روپے کے بجٹ اور گزشتہ سالوں کے بھاری بجٹ کے باوجود صوبے میں تعلیم کا شعبہ پستی کا شکار ہے اور اس میں کوئی خاطرخواہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔ رواں برس جون میں ڈائریکٹوریٹ جنرل مانیٹرنگ اینڈ ایویلیو ایشن کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق سندھ میں 48 ہزار 677 سرکار اسکول ہیں جن میں سے 43 ہزار سکولوں کے جمع شدہ ڈیٹا کے مطابق 12 ہزار 600 سکول بند پڑے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ ان سکولوں میں 2 ہزار کے قریب اساتذہ بھی گھوسٹ ٹیچرز کے طور پر کام کر رہے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟