21 اپریل 2021
تازہ ترین
سموگ سے بچاؤ ممکن!

سموگ سے بچاؤ ممکن!

وطن عزیز کو گزشتہ برس اس کے مکینوں کی مجرمانہ غفلتوں کے باعث ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا، جسے ااسموگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔آئندہ ماہ سے پھر وہی سیزن شروع ہونے کو ہے، جس نے گزشتہ برس کروڑوں پاکستانیوں کو پریشانی میں مبتلا رکھا، لہذا ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسموگ پر ایک مکمل و جامع تحریر قارئین کی نذر کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف عام آدمی بلکہ صنعتی ادارے، محکمہ ماحولیات، صحت، ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر محکمہ جات بشمول وفاقی و صوبائی حکومتیں استفادہ حاصل کرتے ہوئے اس سے پیدا ہونے والی صورت حال پر قابو پاسکیں گی۔ اسموگ دو الفاظ دھواں(Smoke) اور دھند (Fog) کا مجموعہ ہے جو پہلی مرتبہ 1900 ء کے اوائل میں لندن میں استعمال ہوا، جہاں دھند اور دھوئیں نے لندن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مختلف ذرائع کے مطابق یہ لفظDr. Henry Antoine des Voeux نے اپنے مقالے فوگ اینڈ اسموگ (Fog & Smog) میں استعمال کیا۔ اسموگ نظر آنے والی ماحولیاتی آلودگی ہے۔ یہ نائٹروجن اکسائیڈ، سلفر ڈائی اکسائیڈ، اوزون(ozone)، دھویں اور ہوا میں معلق دیگر اجزا پر مشتمل ہے۔ اس میں نہ نظر آنے والے مادے کاربن مونو آکسائیڈ (CO) کلورو فلورو کاربن(CFC) اور تابکار اجزا شامل ہیں۔ انسانی افعال کی وجہ سے پیدا ہونے والی اسموگ، کوئلے کے جلنے، گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی اداروں کے اخراج اور جنگلی یازرعی آگ سے پیدا ہوتی ہے۔ جب یہ زہریلے مادے سورج کی روشنی سے ملاپ کرتے ہیں تو اسموگ بنتی ہے۔ فضا میںآلودگی کے دو طرح کے ذرات پائے جاتے ہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟