19 ستمبر 2018
سمندری پودے بیکٹیریا ختم کرنے کے قابل

 پوری دنیا میں ہر پل بدلتے جراثیم کے سامنے ہماری طاقتور ترین اینٹی بائیوٹک دوائیں بھی ناکارہ ہورہی ہیں اور اس عمل کو جراثیم کی اینٹی بیکٹیریا کے خلاف مزاحمت کا نام دیا گیا ۔ تاہم سمندر کی گہرائیوں میں موذی اور ڈھیٹ جراثیم کا علاج آبی اسفنج اور پودوں کی صورت میں موجود ہے۔ ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ سمندر کی گہرائی میں موجود اسفنج کی تقریباً 25 اقسام ہیں جن میں مفید بیکٹیریا پائے جاتے ہیں۔ یہ میتھی سیلین ریزسٹنٹ اسٹیفائیلو کو کس آریئس کہلانے والے جراثیم کا علاج بھی کر سکتے ہیں جو اب تک کئی امراض کی وجہ بنے ہوئے ہیں اور ان پر کوئی دوا اثر نہیں کر پا رہی۔ اسی بنا پر ایم آر ایس اے کو سپر بگ بھی کہا جاتا ہے۔ ماہرین نے گزشتہ 30 برس میں خلیج میکسیکو، امریکا، کریبی جزائر اور افریقی سمندروں میں ایسے دو درجن سے زائد اسفنج ڈھونڈے ہیں، جن میں 1000 اقسام کے مفید بیکٹیریا موجود ہیں، انہیں تجربہ گاہ میں بنایا جاسکتا ہے اور وہ لاعلاج بیماریوں میں شفا دے سکتے ہیں۔ ماہرین نے پہلے مرحلے میں 50 اسفنج کو ہسپتالوں سے وابستہ مشہور جراثیم اور انفیکشن کے مقابلے میں آزمایا تو معلوم ہوا کہ یہ کئی اقسام کے جراثیم سے لڑ سکتے ہیں اور ایک اسفنج سی ڈیفائکل کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رپورٹ کے خالق ڈاکٹر پیٹر مک کارتھی نے بتایا کہ سمندری فطری مصنوعات سے نئی اینٹی بائیوٹک ادویہ بنانے میں بہت مدد مل سکتی ہے اور اس ضمن میں ہم بہت سے نئے کیمیکلز شناخت کر رہے ہیں جن سے نئی اینٹی بائیوٹک ادویہ بنانے میں مدد ملے گی۔ اس وقت اینٹی بائیوٹک دوائیں تیزی سے بدلتے ہوئے جراثیم کے سامنے بے بس ہیں جس کی ایک مثال ٹی بی کی دوائیں ہیں، جو جراثیم کو دور کرنے کی صلاحیت کھو رہی ہیں اور لوگ تیزی سے موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ 2050 تک پوری دنیا میں اینٹی بائیوٹکس کا یہ مسئلہ امراض سے متاثر ہونے کے ایک نئے بحران کو جنم دے گا اور لاکھوں افراد موت کے منہ میں جانے لگیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین فطرت کے کارخانے میں نئی اینٹی بائیوٹکس کےلئے ہر شے کو آزما رہے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟