16 نومبر 2018
 سرمایہ کاروں کے 125 ارب ڈوب گئے

پاکستانی  روپے کی بے قدری اور شرح سود میں اضافے کے منفی اثرات سٹاک مارکیٹ پر دیکھے گئے،کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس 600 پوائنٹس گرگیا ،سرمایہ کاروں کے 125 ارب روپے ڈوب گئے۔ وہ بھی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ایک بار پھر مندی کے سائے برقرار رہے، ڈالر مہنگا ہوا، روپیہ گرا اور شرح سود ایک فیصد بڑھ گئی، سرمایہ کار سٹپٹا گئے۔ دھڑا دھڑ شیئرز کی فروخت شروع کردی جس سے مارکیٹ میں سیلنگ پریشر آیا اور انڈیکس 800 پوائنٹس تک گرگیا، تاہم سیشن کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس 695پوائنٹس کمی کے بعد 39 ہزار 665 پوائنٹس پر بند ہوا، 330 کمپنیوں کے 14کروڑ 24لاکھ شیئرز میں کاروبار کیا گیا۔ مارکیٹ کی کیپٹلائزیشن 125 ارب روپے کمی کے بعد 81 کھرب 91 ارب روپے رہ گئی۔ کاروبار کے اعتبار سے بینک آف پنجاب، فوجی سیمنٹ اور بینک اسلامی پاکستان مارکیٹ لیڈر رہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟