16 نومبر 2018
 سدھو واپس روانہ،  پاکستان آمد پر بھارتی تنقید

وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری میں خصوصی طور پر شرکت کے لئے آنے والے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو واپس روانہ ہوگئے ، جبکہ ان کے خلاف بھارت میں نفرت کی لہر برقرار ہے۔ بھارتی کرکٹر نوجود سنگھ کو سینیٹر فیصل جاوید نے الوداع کیا اور وہ بذریعہ واہگہ بارڈر واپس روانہ ہوئے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ یہاں سے پیار اور عزت لے کر جارہے ہیں، پاکستانیوں نے جو محبت دی وہ تا عمر یاد رہے گی۔  نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ ریگستان کی مٹی پر بارش پڑنے سے سوندھی خوشبو آنا اچھا شگن ہے، اچھی شروعات کرکے جارہے ہیں، فائونڈیشن بنا کر اس امید سے جارہے ہیں کہ کوئی اس پر عمارت کھڑی کر دے۔ اس موقع پر سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ پاک بھارت کرکٹ میچ ہونا چاہئے جس پر نوجوت سدھو نے کہا کہ آئی پی ایل اور پی ایس ایل کے ونر کے درمیان میچ اچھا آئیڈیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم پاکستان کی تقریب حلف برداری میں نوجوت سنگھ سدھو اور سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ کا مصافحہ اور صدر آزاد کشمیر کی برابر والی نشست پر بیٹھے جانے پر بھارتی میڈیا نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔  ایوان صدر میں ہونے والی تقریب حلف برداری میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارتی مہمان نوجوت سنگھ سدھو سے ملاقات کر کے ان کی خیریت دریافت کی اس موقع پر نوجوت سدھو سربراہ پاک فوج سے 2 مرتبہ گرم جوشی سے گلے بھی ملے۔ بھارتی میڈیا سدھو کے آرمی چیف سے معانقے پر ہنگامہ کھڑا کرتے ہوئے انہیں غدار قرار دے رہا ہے، جبکہ بھارتی شہر لدھیانہ میں انتہا پسندوں کی جانب سے سدھو کے پتلے جلا کر احتجاج کیا گیا ، جس پر وہاں کے میڈیا نے اسے نمایاں کوریج بھی دی۔ بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنا اعزاز سمجھتا ہوں ، کیونکہ یہ تاریخی تھا، عمران خان کا ویږن بہت صاف ہے اور مجھے یقین ہے کہ ان کے آنے سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری آئے گی جس کی ہم سب کو ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان حلف لینے کے بعد ملے اور والہانہ انداز میں گلے لگایا جس کے بعد ہم نے کافی دیر تک بات بھی کی اور نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا، عمران وہ شخص ہے جو سب کی سنتا ہے لیکن کرتا اپنی من کی ہے کیونکہ وہ سیدھی سوچ کا مالک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پاکستان میں بہت عزت ملی تقریب کے دوران تینوں مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات ہوئی ، جب جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب چلتے ہوئے آئے تو ان سے مصافحہ کیا،  انہوں نے فوراً کہا میں جنرل ہوں جبکہ کرکٹر بننا چاہتا تھا،  بعد ازاں میرے کچھ کہے بغیر ہی انہوں نے کہا کہ سدھو ہم امن چاہتے ہیں جس کو سن کر بے حد خوشی ہوئی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟