17 نومبر 2018
سب سے  بڑے فلمی ایوارڈ کی آمد

، اس بات کااعلان گزشتہ روز کراچی کے مقامی ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے نگار کے روح رواں اسلم الیاس رشیدی نے اعلان کرتے ہوئے کیا۔طویل مدت کے بعد پاکستان کاسب سے بڑا فلمی47ویں نگار ایوارڈ کا اجرا دوبارہ کیا جائے گا۔ اس موقع پر انڈسٹری کے سینئر اداکار اور نوجوان نسل مصطفی قریشی، غلام محی الدین ، کاشف وارثی ، فہدشیروانی ، سعید رضوی، سعود، ہمایوں سعید، عدنان شاہ ٹیپو، علی رضوی، ساحر لودھی، عاصم رضا، محب مرزا، آمنہ شیخ ، ذوالفقار رمزی سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔اسلم الیاس رشیدی نے کہاکہ پاکستان فلم انڈسٹری کے بحران کی وجہ سے کوئی خاص فلمیں نہیں بن رہی تھیں ، جس کی وجہ سے ایوارڈ کاسلسلہ روک دیاتھا، موجودہ دور میں اچھی فلمیں بن رہی ہیں جس کی وجہ سے دوبارہ ہمت بندھی ہے اور 12سال کے وقفہ کے بعد دوبارہ ایوارڈز کا سلسلہ شروع کررہے ہی اور ایوارڈ شو 21مارچ کوہوگا۔دوسری جانب مصطفی قریشی نے کہاکہ اس ایوارڈ پر سینئر فنکاروں کا حق ہے اس حوالے سے ہونے والی تقریبات کاحصہ بنا اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں، ہمیشہ اس ایوارڈ کے حوالے سے جاری رکھنے کے لیے کوشش کرتے رہے ہیں، فنکاروں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس ایوارڈ کوکامیابی سے چلنے کے لیے بھرپور انداز میں ساتھ دیں اور تقریبات کاحصہ بنیں۔ اداکار غلام محی الدین نے کہا کہ جب نگار ایوارڈ کی بات ہوتی ہے تو بانی نگار الیاس رشیدی مرحوم بہت یاد آتے ہیں ان کوخراج عقیدت پیش کرتا ہوں، ان کی فلمی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ 12سال ایوارڈ نہیں ہو ا اس عرصہ میں کوئی ایسی فلم بھی نہیں بنیں جو ایوارڈ کی حقدار ٹھرتی، اب فلمیں معیاری بن رہی ہیں۔ فلم اسٹار سعود، ساحرلودھی، محب مرزا، آمنہ شیخ ، عدنان شاہ ٹیپو ، ذولفقار رمزی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا، اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟