21 اگست 2019
تازہ ترین
  سانحہ ساہیوال ، متاثرہ بیٹے کا تحریری بیان جے آئی ٹی میں جمع

  سانحہ ساہیوال ، متاثرہ بیٹے کا تحریری بیان جے آئی ٹی میں جمع

سانحہ ساہیوال میں بچ جانے والے عینی شاہد 8 سالہ عمیر خلیل نے جے آئی ٹی کو تحریری بیان جمع کرا دیا ، جس میں بیٹے نے بتایا کہ پولیس والوں نے پہلے فون پر کسی سے بات کی، پھر فائرنگ کی ۔ اس دوران پاپا اور ماما نے ہمیں چھپا لیا تھا۔ سانحہ ساہیوال کے متاثرین نے جے آئی ٹی کو بیان قلم بند کرا دیا ، بیان دینے والوں میں جاں بحق خلیل کا عینی شاہد بیٹا 8 سالہ عمیر خلیل بھی شامل ہے جس کا بیان تحریری طور پر لکھ کر جے آئی ٹی کو دیا گیا ہے۔ بچے  نے بتایا کہ ہم لوگ ماں نبیلہ، پاپا خلیل، بڑی بہن اریبہ، چھوٹی بہنیں منیبہ اور ہادیہ 8 بجے گھر سے نکلے، گاڑی قادر آباد پہنچی تو پیچھے سے کسی نے گاڑی پر فائر کیا، گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکرا کر رک گئی، پولیس کے دو ڈالے تیزی سے گاڑی کے پاس آ کر رکے، نقاب پوش اہلکاروں نے فائرنگ کر کے انکل ذیشان کو مار دیا۔ بچے نے بتایا کہ ذیشان کو مارنے کے بعد پولیس اہلکاروں نے فائرنگ روک دی اور فون پر کسی سے بات چیت شروع کر دی، ابو نے کہا کہ جو چاہے لے لو لیکن ہمیں نہ مارو، معاف کردو، فون بند ہونے کے بعد اہلکار نے ساتھیوں کو اشارہ کیا جس پر انہوں نے دوبارہ فائرنگ شروع کر دی۔ بیٹے کے مطابق فائرنگ سے ابو ، ماما اور بہن جاں بحق ہو گئے، فائرنگ کے دوران پاپا نے مرنے سے پہلے منیبہ کو اور ماما نے مجھے اور ہادیہ کو اپنے گھٹنوں میں چھپا لیا تھا، فائرنگ کے بعد پولیس اہلکاروں نے مجھے اور دونوں بہنوں کو نکال کر دوبارہ گاڑی پر فائرنگ کی، پولیس والے ہم تینوں کو ڈالے میں ڈال کر لے گئے اور ویرانے میں پھینک کر چلے گئے۔ بچے عمیر خلیل نے  بتایا کہ میں اور منیبہ گولی لگنے کی وجہ سے درد سے کراہتے رہے، ایک انکل نے ہمیں اٹھا کر پٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، پولیس والے واپس آئے ہمیں اپنی گاڑی میں بٹھایا اور ہسپتال چھوڑ دیا، گاڑی کے اندر سے یا پھر موٹر سائیکل پر سے فائرنگ نہیں ہوئی، پولیس جھوٹ کہتی ہے۔  عمیر نے کہا کہ یہ بھی جھوٹ ہے کہ گاڑی میں سے کوئی دہشت گردی کا سامان برآمد ہوا، میرے نہتے بابا، ماما اور بہن کو مار کر پولیس والوں نے زیادتی کی ۔ دریں اثنا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے خلیل کے 2 بھائیوں جلیل، جمیل اور رشتہ داروں سعید اور افضال کے بیانات بھی قلم بند کئے۔ جلیل نے بتایا کہ خلیل کی گاڑی پر فائرنگ کی اطلاع ساہیوال پولیس اور امدادی عملے کی جانب سے ملی، خلیل کے بچے نہ ملے تو مددگار 15 پولیس کے ساتھ تلخی ہوئی۔ بڑی دیر بعد 1122 والوں نے اطلاع دی کے 3 بچے ساہیوال ہسپتال میں ہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟