14 نومبر 2018
تازہ ترین
سامان کی ترسیل کیلئے خودکار روبوٹ ملازم

اگر آپ بیجنگ میں ہوں اور کھانے پینے کی چیزیں آن لائن آرڈر کریں تو بہت ممکن ہے کہ کمپنی ملازم کی جگہ ایک روبوٹ آپ کا منگوایا ہوا سامان گھر پہنچائے اور یہ کوئی سائنس فکشن نہیں بلکہ آج کی حقیقت ہے کیونکہ چین کے ایک سپر سٹور میں گھر بیٹھے اشیائے خور و نوش منگوانے والے صارفین کو سامان کی ترسیل کیلئے ایک خودکار روبوٹ کو ملازمت دے دی گئی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بیجنگ کے ایک رہائشی علاقے میں پیلے رنگ کا روبوٹ سپر سٹور سے پھل، کولڈ ڈرنکس اور سنیکس کی  ترسیل کر رہا ہے۔ 30 کلو گرام وزنی روبوٹ جی پی ایس، کیمروں اور ریڈار سے لیس ہے جو 12 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے فاصلہ طے کر سکتا ہے۔ روبوٹ میں 4 کیمرے نصب ہیں جن کی مدد سے وہ اطراف میں موجود رکاوٹوں کو دیکھتا ہے، جبکہ اس کا خودکار نظام اس منظر کو سمجھتے ہوئے روبوٹ کو دائیں بائیں مڑنے اور ضرورت کے مطابق سمت بدلنے کی ہدایات جاری کرتا ہے، جن پر عمل کرتے ہوئے اس کا کنٹرولنگ سسٹم 6 پہیوں کو گھماتا ہے اور یوں روبوٹ بہ آسانی اپنی سمت تبدیل کر لیتا ہے۔ اگرچہ اس روبوٹ کو آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا ، لیکن اگر یہ تجربہ کامیاب رہا اور صارفین بھی مطمئن رہے تو پھر کچھ ضروری ترامیم کے بعد ایسے مزید روبوٹس، تجارتی پیمانے پر تیار کئے جائیں گے۔ روبوٹ بنانے والی کمپنی نے ارادہ ظاہر کیا کہ اس ٹیکنالوجی کو ایک سے دوسرے شہر اشیا کی ترسیل کیلئے بھی استعمال کیا جائے گا ، البتہ اس مقصد کیلئے بڑے روبوٹ استعمال کئے جائیں گے۔ اشیائے صرف کی ترسیل کیلئے یہ ارزاں قیمت اور محفوظ طریقہ ہوگا جس کا تابناک مستقبل ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟