18 نومبر 2018
تازہ ترین
سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز لندن  میں انتقال کر گئیں

 سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز ہارلے سٹریٹ کلینک لندن میں انتقال کر گئیں۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کلثوم نواز کی میت کو پاکستان لایا جائے گا۔ بیگم کلثوم نواز کینسر کے مرض میں لندن میں زیرعلاج تھیں۔ ان کی تدفین جاتی امرا رائیونڈ میں کی جائے گی ،شہباز شریف کا کہنا تھا کلثوم نواز کی وفات شریف خاندان کیلئے بڑا دھچکا ہے، نواز شریف نے ہر مشکل وقت میں اہلیہ سے مشاورت کی، مرحومہ نے گھر بھی سنبھالا، آزمائش پڑی تو چاردیواری سے باہر نکلیں۔ انہوں نے کہا بیگم کلثوم نواز مشکل حالات میں باہر نکلیں، ڈکٹیٹر شپ کو چیلنج کیا۔ وزیراعظم نے کلثوم نواز کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا حکومت اہلخانہ کو قانون کے مطابق تمام سہولیات دے گی۔ عمران خان نے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو سہولیات کی فراہمی میں معاونت کی ہدایت کر دی۔ بلاول بھٹو زرداری نے بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا بیگم کلثوم نواز ایک بہادر خاتون تھیں، انہوں نے جمہوریت کے لئے جدوجہد کی۔ بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے مرحومہ کو بلند درجات کے لئے دعا کی گئی۔ آرمی چیف کی جانب سے بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر اظہار افسوس کیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے اللہ تعالیٰ بیگم کلثوم نواز کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ بیگم کلثوم نواز نے یکم جولائی 1950ئ کو اندورن لاہور کے کشمیری گھرانے میں حفیظ بٹ کے ہاں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم مدرستہ البنات سے حاصل کی، جبکہ میٹرک لیڈی گریفن سکول سے کیا۔ انہوں نے ایف ایس سی اسلامیہ کالج سے کی اور اسلامیہ کالج سے ہی 1970ئ میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ ادب سے گہرا لگائو ہونے کے باعث انہوں نے 1972 میں فارمین کرسچیئن کالج سے اردو لٹریچر میں بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔ انہوں نے اردو شاعری میں جامعہ پنجاب سے ایم اے کیا۔ کلثوم نواز نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔  2 اپریل 1971ئ کو بیگم کلثوم کے ہاتھوں میں مہندی اور نواز شریف کے ماتھے پر سہرا سجا اور دونوں نے زندگی کے نئے سفر کا آغاز کیا۔ نوازشریف اور بیگم کلثوم نواز کے دو بیٹے حسن اور حسین نواز، جبکہ دو بیٹیاں مریم نواز اور اسمائ نواز ہیں۔ نوازشریف کے پہلی مرتبہ 6 نومبر 1990ئ کو وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر بیگم کلثوم نواز کو خاتون اول بننے کا اعزاز حاصل ہوا جو 18 جولائی 1993ئ تک برقرار رہا۔ وہ 17 فروری 1997ئ کو دوسری مرتبہ خاتون اول بنیں۔ 12 اکتوبر 1999ئ کو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کا تختہ الٹ دیا اور انہیں بھیج دیا گیا۔ نواز شریف سے عہدہ چھینا تو جانثار فصلی بٹیروں نے بھی آشیانے بدل لیے۔ امور خانہ داری نمٹانے والی خاتون بیگم کلثوم نواز کو تنہا اپنے شوہر کے حق میں آواز اٹھانا پڑی۔ انہوں نے نہ صرف شوہر کی رہائی کیلئے عدالت سے رجوع کیا بلکہ مسلم لیگ (ن) کی ڈوبتی کشتی کو بھی سہارا دیا۔ انہوں 1999ئ میں مسلم لیگ (ن) کی پارٹی کی قیادت سنبھالی، لیگی کارکنوں کو متحرک کیا اور جابر آمر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئیں۔ وہ 2002ئ میں پارٹی قیادت سے الگ ہو گئیں۔ جون 2013ئ میں انہیں تیسری مرتبہ خاتون اول ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جو صرف 28 جولائی 2017ئ تک ہی رہ سکا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر نوازشریف کو نہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ انہیں این اے 120 سے ڈی سیٹ کردیا گیا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟