19 نومبر 2018
سائنس دانوں کے علاوہ کسی کو جزیرہ پر جانے کی اجازت نہیں

آئس لینڈ میں ایک حادثے کی وجہ سے پانچ دہائی قبل بننے والے جزیرے پر سائنس دانوں کے سوا کسی کو بھی قدم رکھنے کی اجازت نہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپ کے جزیرہ نما ملک آئس لینڈ میں 1963 میں سمندر کے نیچے موجود آتش فشاں پھٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس کے اثرات تین سال تک قائم رہے جس کی وجہ سے آئس لینڈ میں قدرتی طور پر ایک نیا جزیرہ وجود میں آگیا، جسے آتش فشاں کے نام کی نسبت سے سورٹسے کا نام دیا گیا ۔ سورٹسے وہ زمینی ٹکڑا ہے جو1963میں زیر آب موجود آتش فشاں پھٹنے کی وجہ سے بنا اس سے قبل یہ علاقہ سمندر کا ہی حصہ تھا لیکن آتش فشاں پھٹنے سے نکلنے والے لاوے نے سمندر میں زمینی سطح بنادی، جس کے باعث یہ جزیرہ وجود میں آگیا، تاہم اس عمل میں 3 سال لگ گئے۔ 1966 میں سائنس دانوں نے اس عجیب و غریب جزیرے پر تحقیق کا آغاز کیا جس کے باعث آج تک کسی کو بھی اس جزیرے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ۔ سائنس دانوں کی ٹیم اس جزیرے میں اس بات پر تحقیق کر رہی ہے کہ انسانی مداخلت کے بغیر ایکوسسٹم میں کس طرح منفی اثرات پیدا ہوسکتے ہیں اور اس مقصد کے لئے جزیرے میں صرف دو سائنس دان موجود ہیں۔ یہ سائنس دان اپنے تجربے سے ماحولیاتی نظام میں پیدا ہونے والی تغیرات کا جائزہ لیں گے اور اس کے نتائج سے دنیا کو آگاہ کریں گے جو کرہ زمین کو درپیش ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے میں کام آ سکیں گی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟