15 نومبر 2018
تازہ ترین
سائبر سکیورٹی ، پاکستان عالمی جاسوسوں کا سافٹ ٹارگٹ

۔ نجی ٹی وی کے مطابق سینیٹر مشاہد حسین نے کمیٹی کو آگاہ کیا تھا کہ پاکستان ان تین ممالک میں شامل ہے جن کی غیر ملکی جاسوس مسلسل نگرانی کرتے رہتے ہیں، دیگر دو ممالک میں چین اور ایران بھی شامل ہیں۔ مشاہد حسین نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا تھا کہ پاکستان نے تاحال اپنی سائبر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں ہم بہت پیچھے ہیں جبکہ انہوں نے وزارت خارجہ کو سائبر سکیورٹی کے لیے فنڈز کے اجرائ میں تاخیر پر بھی خدشات کا اظہار کیا۔ وزارت خارجہ نے اپنی سائبر سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے وفاق سے 8 کروڑ روپے کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا تھا۔ وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اب تک رقم جاری نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وزارت خارجہ اور بیرون ملک پاکستانی مشنز کو سائبر خطرات ہیں اور ہمیشہ ہی موجود رہتے ہیں لہٰذا انہیں محفوظ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اجلاس کے دوران اسلام آباد میں گیسٹ ہا¶س کی تعمیر کے منصوبے پر دفتر خارجہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کے لیے اس نے حکومت سے 5 ارب روپے کا تقاضہ کیا ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ وزارت خارجہ امور سرکاری گیسٹ ہا¶س کے لیے 5 ارب روپے مانگ رہی ہے اور وہ سائبر سیکیورٹی کے لیے 8 کروڑ روپے کا بندوبست نہیں کر سکتی حالانکہ یہ زیادہ اہم مسئلہ ہے۔ قائمہ کمیٹی نے وفاقی حکومت سے پر زور سفارش کی کہ وہ وزارت خارجہ کو سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے فنڈز ہنگامی بنیادوں پر جاری کرے۔  


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟