زیر زمین قدیم چٹانوں میں ہیروں کا ذخیرہ موجود

میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ایک ٹریلین ٹن سے ہزار گنا سے بھی زیادہ ہیروں کا ذخیرہ دریافت ہوا ۔ تاہم ابھی اسے کوئی حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ یہ قیمتی معدنیات قدرتی طور پر زمین کی سطح سے نیچے کی طرف 90 سے 150 میل یا 145 سے 240 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔ ایم آئی ٹی کے شعبہ ارضیات و ماحولیات اور سیاروی سائنس کے ایک ماہر سائنس دان الرک فائول نے کہا کہ ہم ان (ہیروں) کو حاصل نہیں کر سکتے، لیکن ہیروں کا یہ ذخیرہ اس سے بھی بڑا ہے، جتنا ہم نے سوچا تھا۔ ان ہیروں کا پتا چلانے کیلئے ماہرین نے زلزلوں کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔ ماہرین نے آواز کی لہروں کو زمین سے گزار کر دیکھا کہ یہ لہریں زمین سے کیسے گزرتی ہیں۔ اسی دوران ماہرین نے کراٹونک روٹس میں ایک خزانہ دریافت کیا۔ اس کی شکل الٹے پہاڑ کی طرح تھی جو پہاڑ زمین کے اندر تھا۔ ماہرین کو اسی کے نیچے قدیم ترین اور کبھی اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی چٹانوں کا پتا چلا۔ ماہرین کو پراجیکٹ کے دوران حیرانی ہوئی کہ آواز کی لہریں اس قدیم کراٹونک روٹس سے تیزی سے کیوں گزرتی ہیں۔ اس پر ماہرین نے مجازی چٹانیں بنائیں۔ یہ چٹانیں مختلف معدنیات کو ملا کر بنائی گئیں تھیں۔ ماہرین دیکھنا چاہتے تھے کہ آواز کی لہریں ان میں سے کتنی تیزی سے گزرتی ہیں۔ ماہرین کو پتا چلا کہ جتنی تیز رفتاری سے کراٹونک روٹس سے آواز گزر رہی ہے، اتنی تیزی سے تو ایسی چٹان سے گزرتی ہیں، جس میں ایک سے دو فیصد ہیرے ہوں۔ اس طرح سائنس دانوں کو یقین ہو گیا ہے کہ زمین میں اس سے ہزار گنا زیادہ ہیرے ہیں، جتنے وہ پہلے سوچتے تھے۔ ہیرے کاربن سے بنتے ہیں اور یہ زمین کی گہرائی میں بہت زیادہ دبائو اور انتہائی درجہ حرارت میں تشکیل پاتے ہیں۔ سائنس دانوں کا اب یہ ماننا ہے کہ زیر زمین قدیم چٹانوں میں ان کی سابقہ توقعات سے ہزاروں گنا زائد ہیرے موجود ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟