16 نومبر 2018
زیادہ پانی پینے سے گردے کے امراض میں کمی

اکثر افراد کو پیشاب میں تکلیف کا سامنا ہوتا ہے، جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ان میں سے ایک وجہ پیشاب کی نالی میں سوزش بھی ہے۔ پیشاب کی نالی میں سوزش انتہائی تکلیف دہ مرض ہے اور یہ بیکٹریا سے ہونے والا سب سے عام انفیکشن ہے، جس کا شکار اکثر خواتین ہوتی ہیں تاہم مردوں کو بھی اس کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس تکلیف دہ مرض سے بچنے کا انتہائی آسان طریقہ موجود ہے۔ امریکی تحقیق میں بتایا گیا کہ درمیانی عمر میں لوگ اکثر پانی کم پینے کے عادی ہوجاتے ہیں، جس سے وہ پیشاب کی نالی میں سوزش کا شکار ہوسکتے ہیں۔ جو لوگ روزانہ کم از کم ڈیڑھ سے 2 لیٹر پانی پینے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں اس مرض کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران 140 خواتین رضاکاروں کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ ان سب خواتین کو اس مرض کا سامنا ہوچکا تھا اور عام طور پر وہ پانی کم پینے کی عادی تھیں، تو خواتین نے ایک گروپ کو دن بھر میں اضافی ڈیڑھ لیٹر پانی پینے کی ہدایت کی۔ ایک سال بعد جب ان کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ جو خواتین زیادہ پانی پی رہی تھیں، ان میں اس مرض کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوگیا۔ محققین کے مطابق پانی پینا سب سے آسان اور محفوظ طریقہ ہے، جس سے اس تکلیف دہ انفیکشن سے بچا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال برطانیہ کے ڈربی رائل ہسپتال کی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ دن بھر میں مناسب مقدار میں پانی کا استعمال گردوں کے امراض سے  موت کے خطرے کو ٹال سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق جسم میں پانی کی شدید کمی سے گردے خون میں موجود زہریلے مواد کو فلٹر کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں اور جمع ہونے والا فضلہ گردوں کے فیل ہونے کا باعث بن جاتا ہے۔ ایسے افراد کی زندگی بچنے کا انحصار گردوں کی پیوند کاری پر ہوتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ پانی کی کمی کو دور کرنا گردوں کے امراض سے تحفظ دینے کا آسان طریقہ ہے، خاص طور پر درمیانی عمر کے افراد کو اس کا خیال رکھنا چاہئے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟