زیادہ نیند صحت کیلئے  نقصان دہ

 کم نیند ہونے کی وجہ سے ہماری صحت متاثر ہوتی ہے۔ لیکن کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ کم نیند کی وجہ سے صحت پر اثرات پڑتے ہیں تو زیادہ نیند کرنے سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہوں گے؟  ایک مطالعہ کے مطابق کم نیند ہونے یا زیادہ نیند ہونا دونوں کو صحت پر کافی گہرا اثر پڑتا ہے۔ سیول نیشنل یونیورسٹی کالج آف میڈیسن  کے محققین نے  موازنہ کرتے ہوئے یہ پتا لگایا کہ  وہ لوگ جو چھ یا سات گھنٹے  یا اس سے کم نیند لیتے ہیں ، تو ان میں  میٹابولک   میں خرابی پیدا ہوتی ہے اور کمر میں چکنائی بھر جاتی ہے جبکہ وہ خواتین جو  چھ گھنٹے سے کم سوتی ہیں ان کی صحت پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ریسرچر نے یہ بھی بتایا کہ وہ مرد جو دن میں دس گھنٹے سے زیادہ سوتے ہیں وہ میٹابولک سینڈروم کا شکار ہوجاتے ہیں ، اور اس سنڈ روم کی وجہ سے ان کے کمر میں چکنائی بھر جاتی ہے اور مریض ذیابیطس کا شکار ہوجاتا ہے۔ مصنفین  نے یہ پتا لگایا ہے کہ 11 فیصد مرد اور 13 فیصد خواتین چھ گھنٹے سے کم سوتی ہیں جبکہ 1.5 فیصد مرد اور 1.7 فیصد عورتیں  دس گھنٹے سے زیادہ  کی نیند کرتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر زیادہ سونا بھی صحت کیلئے مفید نہیں اور کم سونا بھی صحت کیلئے مفید نہیں تو ایک انسان کو کتنے گھنٹے کی نیند کرنی چاہیے؟ زیادہ دیر تک سونے سے جہاں صحت پر ڈپریشن اور سٹروک جیسے منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں ایسے میں وہ لوگ جن کی عمر 18 سے 64 کے درمیان ہے انہیں 7 سے 9 گھنٹے کی نیند کرنی چاہئے اور وہ بھی  بغیر کسی رکاوٹ کے بلکہ  چند ماہرین کا ماننا ہے کہ  7 گھنٹے کی نیند کرنا زیادہ اچھا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟