13 نومبر 2018
تازہ ترین
زمین پر چلنے اور پانی میں تیرنے والا روبوٹ تیار

حشرات اور کیڑوں سے متاثر ہوکر ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک ایسا روبوٹ بنایا ، جو زمین پر چلتا ہے اور پانی میں تیرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سمندر کے فرش پر چل بھی سکتا ہے۔ اسے ہارورڈ امبیولیٹری مائیکروبوٹ یا ایچ اے ایم آر کہا جاتا ہے۔ یہ روبوٹ انتہائی آڑے ترچھے موڑ لے سکتا ہے اور ہلکا پھلکا وزن بھی اٹھا سکتا ہے۔ اس کا وزن کاغذات جوڑنے والے کلپ کے برابر ہے جو پانی میں تیر سکتا ہے اور پانی کے فرش پر چل بھی سکتا ہے۔ اسے ہارورڈ یونیورسٹی میں جان اے پالسن سکول آف انجینئرنگ کےماہرین نے تیار کیا ۔ ہلکا ہونے کے باوجود یہ پانی کا سطحی تنائو (سرفیس ٹینشن) توڑ کر پانی کے اندر چلا جاتا ہے اور ڈوب جاتا ہے جبکہ تہہ میں بیٹھنے کے بعد یہ وہاں آسانی سے چل سکتا ہے۔ یہ ایک بہت چھوٹا سا مائیکروبوٹ ہے جس کا وزن صرف 1.65 گرام ہے جبکہ یہ 1.44 گرام سامان اٹھا سکتا ہے۔ مائیکروبوٹ خشکی اور پانی دونوں میں بہ آسانی چل سکتا ہے۔ ایچ اے ایم آر خطرناک ماحول میں جاسکتا ہے اور ساتھ ہی لوگوں کی تلاش اور جان بچانے کا مشن بھی انجام دے سکتا ہے ، جس کی تفصیلات ہفت روزہ نیچر میں شائع ہوئی ۔ لیکن اتنے ہلکے اور چھوٹے روبوٹ کو ڈبونا اور تیرانا سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوا تھا۔ اس کے چپو نما چار پیر ہیں جو اسے پانی پر کھڑا ہونے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کی تیاری میں طبیعات کے اصولوں کو بطور خاص مد نظر رکھا گیا ، جن میں سے ایک الیکٹرو ویٹنگ کا اصول بھی ہے۔ جب اس کے پیروں پر وولٹیج دیا جاتا ہے تو اس کے پیر کا زاویہ کچھ بدلتا ہے اور یہ پانی میں اتر جاتا ہے۔ اس طرح بجلی کی کمی بیشی سے یہ پانی اور خشکی پر چلتا ہے۔ اگلے مرحلے میں ماہرین اسے مزید دیرپا اور زائد وزن اٹھانے کے قابل بنانا چاہتے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟