22 اکتوبر 2018
تازہ ترین
زلفی بخاری کا نام ای سی  ایل سے نکالنے کی رپورٹ وزیراعظم کو ارسال

 وزارت داخلہ نے پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے سے متعلق وزیراعظم کے نوٹس پر رپورٹ تیار کرکے وزیراعظم ہاؤس بھجوا دی۔ زلفی بخاری کا نام ای سی ایل پر تھا اور دو روز قبل انہیں عمران خان اور ان کی اہلیہ کے ہمراہ چارٹرڈ طیارے کے ذریعے عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانا ہونا تھا لیکن ایف آئی حکام نے انہیں نام بلیک لسٹ میں ہونے کے باعث روک دیا تھا۔  زلفی بخاری نے اپنا نام نکلوانے کے لیے کافی تگ و دو کی اور وزارت داخلہ کے حکام سے اجازت ملنے پر وہ عمران خان کے ساتھ سعودی عرب روانہ ہوگئے۔

ذرائع نے کہا کہ وزارت داخلہ نے زلفی بخاری کو 6 دن کے لیے عمرے پر جانے کی اجازت دی تھی۔ نگران وزیراعظم جسٹس ر ناصر الملک نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کے معاملے پر وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کی تھی۔ ذرائع کے مطابق زلفی بخاری دوہری شہریت رکھتے ہیں اور ان کے پاس پاکستان کے علاوہ برطانوی شہریت بھی ہے۔ ذرائع کے مطابق زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالے جانے سے متعلق وزیراعظم کے نوٹس پر وزارت داخلہ میں اجلاس ہوا جس میں اس معاملے کی رپورٹ تیار کی گئی جو وزیراعظم ہاؤس کو بھی بھجوا دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہو انہیں ون ٹائم پرمیشن بھی نہیں ملتی تو پھر زلفی بخاری کو کس طرح پرمیشن دی گئی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بلیک لسٹ میں شامل افراد کا نام وزارت داخلہ اس متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر نہیں نکالتی جس نے اس شخص کا نام شامل کرایا ہو جب کہ ایسے شخص کو متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر ون ٹائم پرمیشن بھی نہیں دی جاسکتی۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیب نے زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ کرنے کا کہا تھا لیکن ان کا نام نکالتے وقت نیب کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور انہیں براہ راست بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ بلیک لسٹ سے نام نکالنے کے لیے وزارت داخلہ کو تین سے چار روز درکار ہوتے ہیں لیکن زلفی بخاری کو صرف 26 منٹ میں ہی اجازت دے دی گئی۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وزارت داخلہ کی رپورٹ کو وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟