21 نومبر 2018
تازہ ترین
 زخم بھرنے کیلئے زندہ خلیات پر مشتمل لینز تیار

عام سادہ لینزمیں زندہ خلیات (لونگ سیلز) شامل کرکے آنکھوں کے حساس زخم اور امراض کا علاج کیا جاسکتا ہے اور اس کا عملی مظاہرہ کوئنزلینڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے کیا۔ اگرچہ ماہرین انسانی آنول نال کے بعض خلیات کو لے کر آنکھوں کے قرنیے کے زخم کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اب سائنس دانوں نے زخم بھرنے والا کانٹیکٹ لینز تیار کرلیا ہے۔ اس لینز کو کوئنزلینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر ڈیمین ہارکن اور ان کے ساتھیوں نے تیار کیا ۔ اسے آنکھوں کی سفیدی والے حصے کا لینز کہنا زیادہ مناسب ہوگا کیونکہ آنکھوں پر سفید باریک جھلی قرنیہ کے اوپر باریک پردے کی صورت میں موجود ہوتی ہے۔ اس کے نیچے خاص قسم کے خلیات ہوتے ہیں جنہیں لمبل مسنکیمل سٹرومل سیلز کہا جاتا ہے۔ یہ خلیات زخم بھرنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسانی آنکھ کی باریک جھلی کے نیچے موجود خلیات کہاں سے حاصل کئے جائیں؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ امریکا اور یورپ وغیرہ میں آنکھوں کے قرنیے عطیہ کرنے کا رجحان عام ہے اور جب متاثرہ قرنیہ نکالا جاتا ہے تو اس کے اندر موجود ٹشوز سے یہ خلیات حاصل ہوسکتے ہیں جو عموماً تلف کر دیئے جاتے ہیں۔ دوسری جانب بلڈ بینک کی طرز پر ان خلیات کا ایک بینک بھی بنایا جاسکتا ہے جو بڑے پیمانے پر لینز کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ ماہرین نے یہ خلیات لے کر انہیں لینز میں شامل کیا۔ اس ضمن میں پروفیسر ڈیمین نے کہا کہ یہ طریقہ علاج مریضوں کو آنکھوں کے اندرونی زخم اور مستقل عارضوں سے نجات دل اسکتا ہے، کارخانوں یا گھروں میں ہونے والے حادثوں یا خطرناک کیمیکلز سے متاثر ہونے کے بعد آنکھوں کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لئے بہت جلد یہ لینس علاج کے پہلے درجے میں شامل ہوجائیں گے۔ ماہرین پر امید ہیں کہ بہت جلد فنڈنگ ملنے کے بعد لینز کو انسانوں پر آزمایا جائے گا اور اگلے چند برس میں زندہ خلیات والے لینز عام استعمال میں ہوں گے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟