14 نومبر 2018
تازہ ترین
زحل کے چاند پرتحقیقات کرنیوالی ٹیم میں پاکستان شامل

 ہمارے نظام شمسی میں خوبصورت حلقوں والے سیارے زحل (سیٹرن) کے ایک چاند انسیلیڈس پر پیچیدہ آرگینک مالیکیول دریافت ہوا ، جس سے نظام شمسی میں زمین کے علاوہ دیگر دنیائوں میں زندگی کی امید ایک بار پھر سے روشن ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ناسا، یورپی خلائی ایجنسی اور جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی سمیت کئی تحقیقی اداروں کے ماہرین نے اس دریافت میں اہم کردار ادا کیا ۔ ان میں خلائی حیاتیات کے ماہر ڈاکٹر نوزیر خواجہ بھی شامل ہیں جو اس دریافت کے کلیدی ماہرین میں شامل ہیں۔ خلائی جہاز کیسینی نے سیارہ زحل کے برفیلے چاند انسیلیڈس کی تصاویر اور اہم ڈیٹا 2005 میں زمین کی جانب روانہ کیا تھا۔ اس کے بعد ماہرین یکسوئی سے اس کے ڈیٹا کا جائزہ لے رہے تھے اور اس مشترکہ کاوش کے بعد ہی ماہرین نے اپنے ایک تحقیقی مقالے کے بعد حتمی طور پر اس دریافت کا اعلان کیا  ۔ اس کی تفصیلات ہفت روزہ سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہیں۔ ہائیڈل برگ یونیورسٹی  میں ڈاکٹر نوزیر خواجہ اور فرینک پوسٹ برگ کی نگرانی میں کام کرنے والی ٹیم نے کہا ہے کہ زحل کے چاند انسیلیڈس کا اندرون برفیلا ہے۔ اور برف کے ذرات کے اندر ایسے طویل اور پیچیدہ نامیاتی مرکبات دریافت ہوئے ، جو اس سے قبل کبھی زمین کے علاوہ کسی اور سیارے، سیارچے یا چاند پر نہیں دیکھے گئے۔ خیال ہے کہ برف کے یہ ذرات چاند کی اندرونی سطح سے ابل کر باہر آئے ہیں اور چاند پر موجود دراڑوں سے بہہ کر باہر نکلے ہیں۔ کیسینی سیٹلائٹ نے انہیں بھانپ لیا اور ان کی خبر دی۔ ڈاکٹر نوزیر خواجہ نے کہا کہ اس مالیکیول میں کاربن کے کم از کم 15 ایٹم موجود ہیں اور شاید اس سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب فرینک پوسٹ برگ نے یورپی خلائی ایجنسی کی ویب سائٹ پر کہا کہ کسی غیر ارضی آبی دنیا میں ایک پیچیدہ مالیکیول کی دریافت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ یونیورسٹی آف ہائیڈل برگ کی ویب سائٹ پر جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق انسیلیڈس کی برف کے نیچے مائع پانی کا ایک سمندر موجود ہے۔ برفیلے چاند کے اندر سے باہر آنے والے برف کے ذرات میں پیچیدہ حیاتیاتی مالیکیول دریافت ہوا ، جو کسی ایسے ہی پیچیدہ عمل سے بنا ہے۔ اور شاید اس کی گہرائی میں ہماری زمین جیسی ہائیڈرو تھرمل وینٹس موجود ہوسکتی ہیں۔ زمینی سمندروں کے فرش پر گرم پانی کی چمنی نما ساختیں ہیں جنہیں ہائیڈرو تھرمل وینٹس کہا جاتا ہے اور ان کے اندر بھی طویل حیاتیاتی مالیکیول دریافت ہوئے ہیں۔ اسی بنا پر فرینک نے کہا کہ شاید انسیلیڈس کی گہرائی میں بلند دبائو اور درجہ حرارت کی وجہ سے ہونے والے ہائیڈروتھرمل ماحول میں ان مالیکیول نے جنم لیا ۔  یہ مالیکیول پانی میں حل نہیں ہوتا جس میں ایٹم کسی چھلے اور طویل زنجیر کی صورت میں موجود ہیں۔ اس میں کاربن کے علاوہ آکسیجن ایٹم بھی ہے اور شاید نائٹروجن بھی موجود ہو۔ ڈاکٹر نوزیر اور ان کے ساتھیوں کی اس اہم تحقیق پر دیگر ماہرین نے کہا ہے کہ شاید اس طرح کا برفیلا چاند غیر ارضی زندگی کا مسکن بھی ہوسکتا ہے،  تاہم اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ تمام ماہرین نے مزید بہتر خلائی مشن کو انسیلیڈس بھیجنے کی تجویز بھی دی ہے۔ ڈاکٹر نوزیر خواجہ نے بتایا کہ وہ اس اہم دریافت کے بعد پاکستان میں خلائی حیاتیات (ایسٹروبائیولوجی) کا فروغ چاہتے ہیں۔ 2016 میں انہوں نے زحل کے ای حلقے میں ایک اور نامیاتی مرکب دریافت کیا تھا لیکن اس میں کاربن ایٹم کم تھے۔ ڈاکٹر نوزیر نے پاکستان میں خلائی تحقیق کے لئے بھی ایک ویب سائٹ بنائی ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟