26 ستمبر 2018
تازہ ترین
ریفرنسز،خواجہ حارث کی نیب پراسیکیوٹر سے گرما گرمی

سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا سے جرح کے دوران عدالت میں بولنے پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی نیب پراسیکیوٹر سے کچھ گرما گرمی ہوئی تاہم جج کے دلچسپ تبصرے کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی۔ احتساب عدالت نمبر 2 کے جج محمد ارشد ملک نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔ احتساب عدالت نے نواز شریف کو آج حاضری سے استثنیٰ دے رکھا تھا۔ سابق وزیراعظم جمعرات کے روز قریبی رشتہ داروں اور پارٹی رہنمائوں سے جیل میں ملاقات کرتے ہیں۔ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیائ ریکارڈ سمیت آج احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران واجد ضیائ سے جرح کرتے ہوئے خواجہ حارث نے کہا کہ کیا جے آئی ٹی نے الدار آڈٹ بیورو کے کسی آفیشل سے رابطے کی کوشش کی'؟ جس پر واجد ضیائ نے جواب دیا کہ ہم نے ایم ایل اے بھیجا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آڈٹ رپورٹ اُن فنانشل اسٹیٹمنٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی، جن کا آڈٹ الدار آڈٹ بیورو نے خود نہیں کیا تھا۔ جے آئی ٹی نے فنانشل اسٹیٹمٹس حاصل کرنے کے لیے آلڈر آڈٹ بیورو کے کسی بندے سے رابطہ نہیں کیا'۔ واجد ضیائ کا کہنا تھا کہ 'نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز سے متعلق الدار آڈٹ رپورٹ مالی سال 2010 سے 2014 تک کی ہے اور جس شخص نے الدار آڈٹ بیورو رپورٹ تیار کی اُس کا نام، فون نمبر، فیکس نمبر اور ای میل ایڈریس بھی رپورٹ میں درج ہے'۔ خواجہ حارث نے واجد ضیائ سے سوال کیا کہ 'ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کب آپریشنل ہوئی؟' جس پر واجد ضیائ نے جواب دیا کہ 'ریکارڈ دیکھ کر جواب دے سکتا ہوں اور جواب دینے کے لیے سی ایم اے اور حسین نواز کا بیان دیکھنا پڑے گا'۔ اس کے ساتھ ہی کیس کی سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کردیا گیا۔ وقفے کے بعد جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو خواجہ حارث نے سوال کیا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش کے مطابق ہل میٹل کب قائم ہوئی؟  واجد ضیائ نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں جمع متفرق درخواست کے مطابق ہل میٹل 2006 کے آغاز میں قائم ہوئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جے آئی ٹی نے اس بارے میں ایم ایل اے لکھا تھا۔ جرح کے دوران واجد ضیائ نے بتایا کہ انہوں نے 2 سال تک ایف آئی اے اکنامک کرائم ونگ میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ واجد ضیائ کے مطابق انہوں نے براہ راست کسی کمرشل کیس کی تفتیش نہیں کی اور کم ہی ایسا ہوتا تھا کہ کسی کیس کی فائل براہ راست ان کے پاس ہو۔ خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کمپنی قائم کرنے کے لیے کیا قوانین ہوتے ہیں؟ جس پر واجد ضیائ نے جواب دیا کہ ان معاملات پر ایکسپرٹ نہیں، لہذا کچھ نہیں کہہ سکتا۔ خواجہ حارث نے سوال کیا کہ معاشی معاملات پر آپ نے پورا بیان دیا، کیا آپ اس کے ماہر تھے؟ واجد ضیائ نے جواب دیا کہ میں نے ایف آئی اے کے اکنامک ونگ میں دو سال کام کیا ہے۔ خواجہ حارث نے پوچھا کہ ان دو سال کے دوران آپ نے کتنے معاملات کی انکوائری کی؟ واجد ضیائ نے جواب دیا کہ میں سپروائز کرتا تھا، انکوائری میں شامل نہیں ہوا۔ سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر واثق ملک اور نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی۔ خواجہ حارث نے دوران سماعت بولنے پر واثق ملک کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ درمیان میں گفتگو کیوں کر رہے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ہم آپس میں بات کر رہے ہیں آپ سے نہیں، سو باتیں ہوتی ہیں کرنے والی۔ جس پر خواجہ حارث نے تبصرہ کیا کہ آپ یہاں کیا انڈوں کے ریٹ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ اگر میں آپ کے سوال یا گواہ کے جواب کے درمیان بولوں تو آپ تب اعتراض کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آپ نے اگرسنا ہے تو عدالت کو بتائیں کہ ہم نے کیا بات کی ہے، اگر عدالت روکے گی تو میں رک جائوں گا۔ جس پر معزز جج نے ریمارکس دیئے کہ جب آپس میں بات کرنا ہو تو تھوڑا پیچھے ہو کر کر لیا کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران سستی چھا جاتی ہے، تھوڑی دیر بعد ایسی گرما گرمی کے جھٹکے بھی ضروری ہیں۔ جج ارشد ملک کے دلچسپ ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے اور ماحول یکسر بدل گیا۔ اس کے ساتھ ہی العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی گئی، جہاں خواجہ حارث، واجد ضیائ پر جرح جاری رکھیں گے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟