21 ستمبر 2018
تازہ ترین
ریفرل سسٹم، بھارت ڈیبیو کرنیو الا آخری ملک بنے گا

تفصیلات کے مطابق بھارتی ٹیم کے 2008 میں دورۂ سری لنکا کے دوران ڈی آر ایس کا آزمائشی استعمال کیا گیا تھا، اس کے بعد بھارتی بورڈ نے اس کی مخالفت شروع کردی اور پھر اس کو اپنی ضد اور انا کا مسئلہ بنالیاتھا، بی سی سی آئی کے سابق صدر این سری نواسن تواس سلسلے میں بات تک سننے کو تیار نہیں تھے جبکہ ششانک منوہرنے بھی اس مخالفت کو جاری رکھا۔ڈی آر ایس کے  سب سے بڑے مخالف سچن ٹنڈولکر اور مہندرا سنگھ دھونی تھے تاہم ٹنڈولکر کی ریٹائرمنٹ اور دھونی کے ٹیسٹ کرکٹ کو الوداع کہنے کے بعد آئی سی سی کیلیے بھارتی بورڈ کو سمجھانا آسان ہوگیا، اس کے ساتھ ٹیکنالوجی کو بھی زیادہ بہتر بناکر بی سی سی آئی کے تحفظات کو کم کیا گیا جبکہ موجود ہیڈ کوچ انیل کمبلے نے بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا جوکہ آئی سی سی کی انٹرنیشنل کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر کام کرچکے تھے۔ان سب کی کوششیں رنگ لے آئیں اور بھارتی بورڈ انگلینڈ کے خلاف بدھ سے راجکوٹ میں شروع ہونے والی پانچ ٹیسٹ میچز کی سیریز میں ڈی آر ایس کے استعمال پر راضی ہوگیا۔اس کے ساتھ ہی بھارت میںڈی آر ایس کا نہ صرف ڈیبیو ہوگا بلکہ یہ اپنے ملک میں سیریز میں امپائرز کی معاونت کیلیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والا آخری ٹیسٹ ملک بھی ثابت ہوگا۔ گذشتہ روز زمبابوے میں بھی ڈی آر ایس نے ڈیبیو کیا تھا۔بی سی سی آئی کے صدر انوراگ ٹھاکر کا کہنا ہے کہ ہم نے ٹیکنالوجی میں بہتری آنے کی وجہ سے اس سسٹم کو قبول کیا ہے جبکہ آئی سی سی کے جنرل منیجر جیف ایلرڈائس کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد ٹیکنالوجی کو خامیوں سے پاک کرنا اور انٹرنیشنل کرکٹ میں مستقل مزاجی سے اس کا نفاذ ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟