22 ستمبر 2018
تازہ ترین
ریئل اسٹیٹ ایجنٹس نے پیر سے ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا

اس بات کا اعلان کراچی میں منعقدہ آل پاکستان ریئل اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشنز کنونشن میں کیا گیا جس میں ملک بھر کی 12نمائندہ ریئل اسٹیٹ ایسوسی ایشنز کے سربراہان اور نمائندوںنے شرکت کی۔کنونشن میں قرارداد منظورکی گئی اور ملک بھر کی ریئل اسٹیٹ ایسوسی ایشنز جن میں ڈیفنس کلفٹن ریئل اسٹیٹ کے صدرراجہ مظہر حسین، اسلام آباد اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن چوہدری عبدالرؤف، چیئرمین، ڈی ایچ اے ویلی راولپنڈی اینڈاسلام آباد ریئل اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن میجر ریٹائرڈ محمد طفیل، صدر ڈی ایچ اے لاہور اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن میجر ریٹائرڈ رفیق حسرت، صدر جوہر ٹاؤن لاہور اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن شفقت بندیشہ، چیئرمین بحریہ ٹاؤن لاہور اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن محمد نعیم، صدر پشاور اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن مظہر وکیل درانی، صدر گوادر اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن فیصل جمال دشتی، صدر ڈی ایچ اے رہبر ریئل اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن طاہر مسعود، صدر نارتھ ناظم آباد ریئل اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن مسٹر عرفان اور صدر ناظم آباد ریئل اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے نمائندے محمد قیصر کے دستخط سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ایف بی آر کی جانب سے جائیداد کی 2 الگ الگ ویلیو ایشن (ڈی سی اور ایف بی آر)کا نظام رائج کرتے ہوئے جائیدادوں کی ویلیوایشن کے ساتھ ٹیکس کو بھی دگنا کردیا گیا ہے۔ان قوانین کا سہارا لے کر ایف بی آر حکام ریئل اسٹیٹ ایجنٹس و نئے خریداروں کو ہراساں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ملک بھر میں جائیدادوں کی خریدو فروخت کا 90 فیصد کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے، بہت سا کاروبار دبئی، ملائیشیا اور دیگر ممالک میں منتقل ہو گیا ہے، بینکوں میں لین دین نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، اگر حکومت نے دہرانظام ختم اور ٹیکسز کوکم نہ کیا تو باقی 10 فیصد کاروبار جو چھوٹے پلاٹس کی خریدوفروخت کا ہو رہا ہے وہ بھی بند ہو جائے گا۔ریئل اسٹیٹ ایجنٹس نے کہا کہ ایف بی آر حکام نے ریئل اسٹیٹ ایجنٹس سے مشاورت کیے بغیر ڈی ایچ اے سٹی اور بحریہ ٹاؤن کوبھی اپنی ویلیو ایشن ٹیبل میں شامل کر دیا ہے جس کی وجہ سے یہاں بھی کاروبار بند ہو گیا ہے، اسے ٹیبل سے فوری ہٹایا جائے۔ کنونشن نے مطالبہ کیاکہ ملک بھر میں 1986 سے رائج ڈپٹی کمشنر ویلیوایشن نظام پورے ملک کیلیے بہت بہتر اور قابل قبول ہے، اسے مناسب ضروری ترامیم کے ساتھ جاری رکھا جائے۔مشترکہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ایک ہی جائیداد کی 2 الگ الگ ویلیوایشن (ڈی سی اور ایف بی آر)کے نظام کو فوری ختم کیا جائے، 30جون 2016 میں نافذ ہونے والے قانون کے تحت جائیدادوں کی ویلیوایشن بڑھنے کے بعد اس دہرے ٹیکس سے قبل نافذ شرح کو آدھا کم کیا جائے،نئے خریداروں کو جائیدادوں میں سرمایہ کاری کیلیے خصوصی رعایتی اسکیم دی جائے تاکہ اس ڈوبتے ہوئے کاروبار کو سہارا مل سکے، ودہولڈنگ ایڈوانس انکم ٹیکس فائلر کے لیے 2 فیصد سے کم کرکے 0.5 اور نان فائلر کیلیے 4 فیصد سے کم کر کے 1فیصد جبکہ ودہولڈنگ کیپٹل گین ٹیکس کو فائلر کیلیے 0.5 اور نان فائلر کیلیے 1فیصد کیا جائے۔ایف بی آرکی جانب سے ریئل اسٹیٹ ایجنٹس و نئے خریداروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری روکا جائے، ڈی ایچ اے سٹی اور بحریہ ٹاؤن کوایف بی آر ویلیوایشن ٹیبل سے فوری ختم کیا جائے، ملک بھر میں ریئل اسٹیٹ کو ایک پیشے کے طور پر قبول کر کے حکومتی سرپرستی دی جائے۔کنونشن میں مشترکہ اعلامیے کے ذریعے ملک گیربھرپور احتجاجی مہم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا، 24 اکتوبر کو لاہور میں عظیم الشان احتجاجی ریلی منعقد کی جائے گی جس کے بعد کالی پٹیاں باندھ کراحتجاجی سلسلہ دیگر اضلاع میں بھی شروع کیا جائے گا، 27 اکتوبر کو ہی اسلام آباد اور راولپنڈی سطح پر عظیم الشان احتجاجی ریلی منعقد کی جائے گی۔اعلامیے کے مطابق تمام بڑی چھوٹی سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے کر کے انہیں اعتماد میں لیاجائیگا اور اپیل کی جائے گی کہ وہ ان ظالمانہ اقدامات کو واپس کرانے میں ساتھ دیں، تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور وزیرخزانہ سے ملاقاتیں کر کے ان نئے قوانین کے خاتمے کی درخواست کی جائے گی، ایف بی آر کے ملک بھر میں قائم تمام دفاتر کا گھیراؤ کیا جا سکتا ہے۔مشترکہ اعلامیے کے مطابق اس احتجاجی مہم کے سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول تاجربرادری کو اعتماد میں لیا جائیگا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟