15 نومبر 2018
رویہ سخت کرنے پر مجبور نہ کریں،حمزہ

ن لیگ کے رہنما حمزہ شہباز نے کہا  ہے کہ عمران خان جو مرضی کرلیں ہم چپ نہیں بیٹھیں گے جب کہ انہیں انتخابی پارلیمانی کمیشن سے بھاگنے بھی نہیں دیں گے۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخاب میں اگر متفقہ اپوزیشن کا فیصلہ ہوتا تو اچھا ہوتا، معلوم نہیں پیپلز پارٹی کی کیا مجبوریاں ہیں، پیپلز پارٹی کو اپوزیشن کے ساتھ آنا پڑے گا، پہلے بھی کہا تھا کہ  ن  لیگ جمہوریت کا تسلسل چاہتی ہے جب کہ اس الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی اور بطور احتجاج اس نظام میں شامل ہے۔  ہمارے 13 صوبائی اسمبلی کے دستخط کے اعتراض کا خط پڑھا، معزز ارکان کی تذلیل کسی صورت برداشت نہیں ہوگی، اسپیکر کو بتانا چاہتا ہوں کہ ووٹوں پر نقب ڈالی گئی ہے، اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن آچکا ہے اس کی تاخیر کا کوئی سبب نہیں تھا لیکن پرویز الہی نے طریقہ نہیں اپنایا، ہم جمہوریت کا سفر طے کر کے آئے ہیں، ہمیں مجبور نہ کریں کہ رویہ سخت ہو، ہم اس پر اجلاس بلائیں گے اسپیکر کو جواب دینا ہوگا ، دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی سب کے سامنے ہوگا اورانہیں انتخابی پارلیمانی کمیشن سے بھاگنے نہیں دیں گے، کنٹینرپرگالیاں دینا آسان کام ہے پاکستان کے معاملات چلانا مشکل ہے۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ جعلی مینڈیٹ کو ایکسپوز کریں گے اور اولین مطالبہ ہے کہ پارلیمانی کمیشن کی فی الفور انکوائری ہونی چاہیے کیونکہ جیت کا مارجن زیادہ ہے، نیب کا نوٹس صاف پانی پر موصول ہوا ہے، اسپیکر پنجاب بینک اور این آئی سی اسکینڈل میں ملوث ہیں اس پر بھی انکوائری کروانی چاہیئے۔ پنجاب بینک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا ہے، اگر حقوق چھینے جائیں گے تو گریبان پر ہاتھ ڈالیں گے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟