25 ستمبر 2018
روہنگیا  مظالم سے پردہ اٹھانے والے2صحافیوں کو قید

 میانمار کی عدالت نے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم سے متعلق حقائق سے پردہ اٹھانے والے غیرملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے دو صحافیوں کو 7 سال قید کی سزاسنادی۔ عدالت نے غیر ملکی صحافیوں کے خلاف ملکی خفیہ رازوں کی خلاف ورزی کے قانون کے تحت فیصلہ سنایا۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی  اے ایف پی کے مطابق 32 سالہ والون اور 28 سالہ کیئو سو او کو 12 دسمبر 2017 میں حراست میں لیا گیا تھا۔ دونوں صحافی میانمار کی ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر تحقیقاتی رپورٹ پر کام کر رہے تھے۔ سزا سننے کے بعد رپورٹر وا لون نے کہا، مجھے کوئی خوف نہیں، میں نے کچھ غلط نہیں کیا، میں انصاف، جمہوریت اور آزادی پر یقین رکھتا ہوں۔ اس حوالے سے میانمار حکومت کے ترجمان زائو طے نے تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میانمار کی عدالتیں خودمختار ہیں اور یہ کیس قانون کے مطابق چلایا گیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے میانمار کی عدالت کے فیصلے کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے دونوں صحافیوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ غیرملکی خبر ایجنسی کے ایڈیٹر اِن چیف اسٹیفن ایڈلر نے کہا کہ 'آج دنیا بھر میں آزادی صحافت کے لیے افسوس ناک ترین دن ہے'۔ ہیومن رائٹس واچ کے ڈپٹی ڈائریکٹر فل رابرٹس نے بھی اس فیصلے کو آزادی صحافت کے لیے بدترین دھچکا قرار دیا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟