17 دسمبر 2018
تازہ ترین
روبوٹ کا میئر کے مقابلے میں حصہ لینے کا اعلان

ٹیکنالوجی اور روبوٹس کی سرزمین جاپان میں مصنوعی ذہانت  پر مبنی پہلے امیدوار نے میئر کے مقابلے میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ۔ دنیا بھر میں یہ بحث چل پڑی ہے کہ روبوٹس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس انسانوں کی ملازمتوں کو لے اڑیں گے اور اس سے بے روزگاری بڑھے گی لیکن کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ جاپان میں مصنوعی ذہانت پر مشتمل ایک فرضی شخصیت نے شہر کے میئر کے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ۔ اگرچہ اب بھی مصنوعی ذہانت کو اونچے عوامی عہدوں کیلئے موزوں قرار دینے کا کوئی قانون نہیں بن سکا ، تاہم ٹوکیو کے نواحی علاقے ٹاما سٹی میں بلدیاتی امور میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے کردار کو بڑھانے کی کوشش کی ہے اور اسے آرٹیفیشل انٹیلی جنس میئر یا  اے آئی میئر کا نام دیا گیا ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسانی افسران کی جگہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر بلدیاتی امور کا فیصلہ کریں گے اور اس طرح بہت شفاف اور منصفانہ اور غیر جانب دارانہ فیصلے کئے جاسکیں گے، جن سے ہر باشندہ یکساں طور پر مستفید ہوسکے گا۔ میئر بننے کے امیدوار میشی ہیٹو ماتسوڈا نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ دنیا میں پہلی بار مصنوعی ذہانت انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت سے بنے میئر کے ذریعے شفاف اور متوازن انداز میں پہلے عوامی ڈیٹا جمع کیا جائے گا اور اس کے بعد بہت تیزی سے فیصلے کئے جائیں گے جو اگلی نسل تک کےلئے مفید ہوں گے۔ 44 سالہ ماتسوڈا نے 2014 میں ٹاما سٹی کے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ اس بار وہ مصنوعی ذہانت کے ایک نمائندے کی طرح کام کریں گے۔ ان کے فیصلے اعلیٰ کمپیوٹر پروگرام کریں گے اور وہ شہر پر ان کا اطلاق کریں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کمپیوٹر الگورتھم کے فیصلوں سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شہر میں جگہ جگہ روبوٹک میئر کے پوسٹر لگائے گئے ہیں۔ ان پوسٹروں میں عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک مصنوعی ذہانت والے میئر کو ووٹ دیں تاکہ وہ ان کے مسائل حل کرسکیں۔ تاہم بعض افراد نے اسے میشی ہیٹو ماتسوڈا کی ایک چال قرار دیا ، تاکہ لوگ انہیں میئر منتخب کر سکیں اور انہوں نے سہارا کسی کمپیوٹر الگورتھم یا اے آئی کا لیا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟