26 ستمبر 2018
تازہ ترین
رواں سال کھالوں کی قیمت 15 فیصد تک کم ہوجائے گی

عالمی منڈی میں چمڑے کی مصنوعات اور خام چمڑے کی طلب کم ہونے کی وجہ سے اس سال کھالوں کی قیمت میں10سے15فیصد تک کمی ہوگی۔سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے رجحان اور جوش وجذبے میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے اور رواں برس ریکارڈ تعداد میں جانور قربان کیے جانے کا اندازہ لگایا گیا ہے،ملک بھر میں80 لاکھ مویشیوں کی قربانی کا اندازہ لگایا گیا ہے جس سے اربوں روپے مالیت کا خام مال دستیاب ہوگا۔پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سدرن ریجن اعجاز احمد شیخ کے مطابق پاکستان میں ہر سال قربانی کے رجحان میں5 سے 7فیصد تک اضافہ ہورہا تھا تاہم رواں برس عوام کی قوت خرید بہتر ہونے اور ملک بھر میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری کی وجہ سے قربانی میں بلحاظ تعداد 10فیصد تک اضافہ متوقع ہے انھوں نے بتایا کہ رواں برس گائے کی کھال کی قیمت 1500سے 1550روپے تک مقرر کی گئی ہے گزشتہ سال گائے کی کھالیں 1700سے 1800روپے تک خریدی گئی تھیں۔ اسی طرح بکرے کی کھال کی قیمت 20 روپے کمی سے 225سے 250 روپے مقرر کی گئی ہے دنبے کی کھال کی قیمت میں70سے 80 روپے کی کمی واقع ہوئی ہے دنبے کی کھالیں اس سال 100سے 125روپے میں خریدی جائیں گی اعجاز احمد شیخ نے بتایا کہ قربانی کے جانوروں سے حاصل ہونے والی کھالیں لیدر انڈسٹری کے خام مال کی 40سے 45فیصد ضرورت کو پورا کرتی ہیں۔قربانی کے جانوروں کی کھال کا چمڑا معیار میں سب سے اعلیٰ ہوتا ہے کیونکہ قربانی کے جانوروں کی اچھی دیکھ بھال کی جاتی ہے اور انھیں اچھی خوراک پر پالا جاتا ہے اسی طرح قربانی کرنے والے افراد بھی کھالوں کو مستحق کا حق اور قربانی کا حصہ سمجھتے ہوئے دیکھ بھال کے ساتھ مستحقین یا فلاحی اداروں کو پہنچاتے ہیں انھوں نے بتایا کہ اس سال 80 لاکھ مویشی قربان کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو ایک ریکارڈ تعداد ہوگی۔گزشتہ 10سے 12سال میں قربانی کے جانوروں کی کھالوں میں 5سے 7فیصد تک کا اوسط اضافہ ہوا ہے تاہم اس سال 10فیصد سے زائد اضافہ متوقع ہے، قربانی کے جانوروں میں گائے کی کھالوں کا تناسب 45 فیصد جبکہ بکرے کی کھالوں کا تناسب 55 فیصد ہے دنبے کی کھالیں 8 سے 10فیصد ہوں گی کراچی میں قائم ٹینریز میں قربانی کی کھالیں جمع کرنے اور انھیں پراسیس کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور فی الحال کھالوں کی پراسیسنگ کا عمل روک دیا گیا ہے۔

 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟