22 اپریل 2021
تازہ ترین
ذیابیطس کے ساتھ خوشگوار زندگی جینا ممکن

ذیابیطس کے ساتھ خوشگوار زندگی جینا ممکن

دنیابھر کے لوگوں کو اس وقت جس بیماری کے باعث سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا ہے اس کا نام ذیابیطس ہے ، اس وقت دنیا میں ہر آٹھواں شخص اس بیماری کا شکار ہے اور اس مرض سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں  سے ہلاکتوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ذیابیطس ہے کیا اور انسان اس بیماری میں مبتلا کیسے ہوتا ہے ، جب ہم اس کی وجوہات پر نظر ڈالتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ بیماری انسانی لبلبے  میں خرابی کے باعث لاحق ہوتی ہے کیونکہ لبلبہ مناسب مقدار میں انسولین پیدا نہیں کرپاتا اور  انسولین خون میں گلوکو زکی مقدار کو کنٹرول کرتی ہے اور ایسا نہ ہونے کی وجہ سے خون میں گلوکوز کی مقدار بہت حد تک بڑھ جاتی ہے جو خون کی نالیوں کو متاثر کرتی ہے۔ ذیابیطس کی اے ٹائپ اور بی ٹائپ طرح کی دو اقسام ہیں، اے ٹائپ عام طور پر   5 سے 10  فیصد افراد  میں پائی جاتی ہے اور یہ چھوٹی عمر سے ہی لوگوں کو اپنا شکار بنا لیتی ہے ، اس میں ذیابیطس انسان کے مدافعتی نظام  پر حملہ آ ور ہو کر لبلبہ میں میں موجود انسولین پیدا کرنے والے  سیلز کو تباہ کر دیتی ہے ۔ دوسری قسم  بی ٹائپ بہت عام ہے اور یہ  90  سے 95  فیصد مریضوں میں دیکھی جا سکتی ہے، اس میں لبلبہ بہت تھوڑی مقدار میں انسولین پیدا کرتا ہے جو سیلز کے استعمال کیلئے ناکافی ہوتی ہے۔ عمومی طور پر لوگ اس اس قسم کی ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے باوجود اس سے انجان رہتے ہیں اور بیماری  شدت اختیار کر جاتی ہے ، اگر آپ کو تھوڑا سا کام کرنے کے بعد تھکاوٹ محسوس ہو ، پیشاب معمول سے زیادہ آئے ، بار بار آپ کے دل میں کھانے اور پینے کی خواہش پیدا ہو یا وزن میں کمی اور بینائی میں کمزوری محسوس ہو تو  بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ ذیابیطس کا شکار ہوچکے ہیں ، اس لئے آپ کو فوری طور پر اپنے فزیشن سے رابطہ کرنا چاہئے ۔ ذیابیطس کی شدت کو متوازن کرنے کے لئے ادویات کے ساتھ مناسب غذائوں کا استعمال انتہائی ضروری ہے ،  سبزیاں ،  پھل اور تازہ رس اس مرض میں انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے  ، ذیابیطس کے مریضوں کو کاربوہائیڈریٹس پر مبنی غذائوں سمیت دلیہ وغیرہ کو اپنی خوراک میں شامل کر لینا چاہئے ، مزید برآں بیریز ، خمیر، دودھ سے بنی اشیا ، انڈے کی زردی، مچھلی، لہسن، داری چینی اور سویا بین کا استعمال بھی انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر پروٹین کا استعمال انتہائی ضروری ہے، اس مقصد کے لئے پروٹین سے بھرپور غذائوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لینا چاہئے ۔ ذیابیطس کے مریض کو چاہئے کہ ورزش سے پہلے کاربوہائیڈریٹس استعمال کرے یا انسولین کی مقدار کم کر دے تاکہ شوگر لیول کم ہونے سے کسی ممکنہ پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے  کیونکہ ورزش سے بھی انسانی جسم میں ایک طرح کی انسولین پیدا ہوتی ہے، مریض کو کبھی بھی مچھلی سے بنے ہوئے کیپسول استعمال نہیں کرنے چاہئیں ۔ علاوہ ازیں   نمک اور سفید آٹے سے بنی ہوئی غذائوں کو بھی ترک کر دینا چاہئے کیونکہ یہ انسانی جسم میں شوگر لیول بڑھانے کی بہت بڑی وجہ ہیں۔ امائنو ایسڈ سے بنے ہوئے سپلیمنٹس کا استعمال مت کریں ،  اس سے انسولین بنانے والے  ہارمونز کو نقصان پہنچتا ہے، وٹامن بی اور سی کی بڑی مقدار مت لیں کیونکہ اس سے مسائل پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں   لیکن فزیشن کے مشورے سے انہیں مناسب مقدار میں استعمال کیا جاسکتا ہے  ، مریض کو زنک کو اپنی زندگی کا لازمی جزو بنالینا چاہئے کیونکہ یہ عنصر بالوں کو گرنے سے روکنے کے علاوہ زخموں کو مندمل کرنے میں انتہائی مددگار ہے  ، مریض کو تمباکو نوشی سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ اس سے خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں اور دل سمیت جسم میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے  ، مریض کو اپنے پائوں ہمیشہ صاف اور خشک رکھنے چاہئیں اور اسے صرف سفید رنگ کی جرابیں اور آرام دہ  بند جوتے استعمال کرنے چاہئیں ، خود کو چوٹ لگنے سے بچائیں کیونکہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد زخم کے مندمل ہونے میں کافی وقت لگتا ہے یا پھر بہت زیادہ ادویات استعمال کرنا پڑتی ہیں ۔ مریض کو چاہئے کہ وہ تمام ادویات ، فوڈ سپلیمنٹس اپنے فزیشن کے مشورے سے استعمال کرے ۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا آپ کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں؟