22 ستمبر 2018
ذہنی تنائو نظر کی کمزوری کا باعث

ذہنی تنائو کے دماغ پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن اب ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ عارضے بصارت کیلئے بھی انتہائی مضر ہوتے ہیں اور موتیا سمیت آنکھوں کی بینائی تک چھین سکتے ہیں۔ اس سے قبل بھی کئی تحقیقات سے یہ بات سامنے آتی رہی ہیں کہ ذہنی تنائو بینائی میں نقصان کی براہ راست یا بالواسطہ طور پر وجہ بن سکتا ہے۔ یورپین ایسوسی ایشن فار پریڈکٹیو ، پرونٹیوو اینڈ پرسنلائزڈ میڈیسن جرنل میں شائع شدہ ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ذہنی تنائو کی تباہ کاریوں میں اب نظر کی کمزوری، موتیا، سبزموتیا، عمر کے ساتھ میکیولر ڈی جنریشن اور بصارت کے کھونے کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ جرمنی میں مینڈ برگ یونیورسٹی کے پروفیسر برنارڈ سیبل اور ان کے ساتھیوں نے کہا کہ ذہن پر مسلسل بوجھ اور دبائو سے کارٹیسول ہارمون بڑھ جاتا ہے اور اس کا اثر آنکھوں کے دو طرح کے ذیلی اعصابی نظاموں پر ہوتا ہے جن میں ویسکیولر اور سمپیتھٹک نروس سسٹمز شامل ہیں۔ یہ دونوں نظام جب متاثر ہوجائیں تو آنکھوں کی نظر پر اثر ڈالتے ہیں۔ اس سے عام موتیا اور سبز موتیا کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جبکہ اسی کے ساتھ آپٹک نیوروپیتھی بھی جنم لیتی ہے اور بصارت خراب ہوتی رہتی ہے۔ اس تحقیق کیلئے سیکڑوں مطالعوں اور تحقیقی مقالہ جات کا جائزہ لیا گیا اور کہا گیا کہ اگر آنکھ میں کوئی عارضہ ہو تو ذہنی تنائو  اسے مزید بگاڑ دیتا ہے۔ پھر آنکھ کی کمزوری کئی پیچیدہ امراض کو جنم دیتی ہے جن میں ذیابیطس نیورو پیتھی، بصری نیوروپیتھی، سبزموتیا اور دیگر امراض شامل ہیں۔ اگر اس مرحلے پر ذہنی تنائو کم ہوجائے تو مریض کو اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟