23 ستمبر 2018
تازہ ترین
ذہانت سے متعلق1,016  نئے جینز دریافت

 بینالاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم نے برسوں کی مسلسل محنت کے بعد 1,016 ایسے جین دریافت کئے ہیں جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ذہانت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی ٹیم نے 190 جینیاتی لوکائی (جین) بھی دریافت کئے ہیں جن کی بدولت ذہانت، ذہنی کارکردگی اور ان کے درمیان جینیاتی تعلق کے بارے میں ہمارے معلومات میں اضافہ ہوگا۔ یہ تحقیق یورپ میں ہوئی ہے جس کی نگرانی ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم کے ڈینیئل پوسٹ ہیوما اور ان کے ساتھیوں نے کی۔ اسے جینوم وائیڈ ایسوسی ایشن سٹڈی (جی ڈبلیو اے ایس) کا نام دیا گیا ، جس میں دو لاکھ 70 ہزار افراد پر مشتمل 14 جینیاتی گروہوں کا بغور مطالعہ کیا گیا ۔ اس تحقیق میں لاکھوں شرکا کی ذہانت اور دماغی کارکردگی کا مطالعہ کیا گیا اور اس کا موازنہ ان کے ڈی این اے کی تبدیلی یا مماثلت سے کیا گیا۔ یہ دیکھا گیا کہ زیادہ ذہین افراد میں کس طرح کی جینیاتی تبدیلیاں پائی جاتی ہیں۔ پورے منصوبے میں 90 لاکھ جینیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ کیا گیا۔ ڈینیئل کی ٹیم نے دماغ میں 205 ایسے مقامات دیکھے جن میں موجود ڈی این اے کا تعلق ذہانت سے تھا اور ان میں سے صرف 15 علاقے ہی اس سے پہلے دریافت ہوسکے تھے جبکہ نو دریافتہ 1,016 جین میں سے 77 ہمیں پہلے سے معلوم تھے۔ ماہرین نے انکشاف کیا کہ ذہانت والے جین دماغی صحت کے محافظ بھی ہیں جو ڈپریشن، الزائمر اور توجہ میں کمی جیسی کیفیات پیدا ہونے نہیں دیتے۔ انہی جین کا طویل عمر سے تعلق بھی سامنے آیا ہے، یعنی ذہین افراد زیادہ عرصے تک زندہ رہتے ہیں۔ ماہرین نے اس تحقیق کو انتہائی اہم قرار دیا ، جس سے دماغ اور خود اس کی کارکردگی کو ایک نئے زاویئے سے جاننے کی راہ ہموار ہوگی۔ یہ تحقیق نیچر جینیٹکس میں شائع ہوئی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟