14 نومبر 2018
تازہ ترین
دہلی سے دبئی تک، پاکستان 400 ناٹ آؤٹ

پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اہم سنگ میں عبور کرنے کے قریب ہے۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دبئی میں جمعرات کے روز سے شروع ہونے والا پہلا ٹیسٹ میچ نہ صرف پاکستان کا پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ ہے بلکہ یہ پاکستان کا 400 واں ٹیسٹ میچ بھی ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کا یہ سفر اکتوبر سنہ 1952 میں دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ سے شروع ہوا تھا۔

عبدالحفیظ کاردار کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کو اس ٹیسٹ میں اننگز اور 70 رنز سے شکست ہوئی تھی تاہم لکھنؤ میں کھیلے جانے والے اگلے ہی ٹیسٹ میں پاکستان نے نذر محمد کی سنچری اور فضل محمود کی 12 وکٹوں کی بدولت ایک اننگز اور 43 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔

ٹیسٹ کرکٹ کے ابتدائی برسوں میں پاکستان نے اس دور میں ٹیسٹ کھیلنے والے ہرملک کے خلاف اپنی پہلی سیریز میں کم ازکم ایک ٹیسٹ ضرور جیتا جن میں بھارت، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، اور ویسٹ انڈیز شامل تھے۔ جبکہ آسٹریلیا کے خلاف سنہ 1956 میں کھیلے جانے والے واحد ٹیسٹ میچ میں بھی اس نے کامیابی حاصل کی تھی۔

100 واں ٹیسٹ

سرفراز نوازImage copyrightGETTY IMAGES

Image captionسرفراز نواز نے آسٹریلیا کے خلاف ایک سپیل میں صرف ایک رن دے کر سات وکٹیں حاصل کیں

پاکستان نے ٹیسٹ میچوں کی سنچری مارچ سنہ 1979 میں آسٹریلیا کے خلاف میلبرن میں مکمل کی تھی۔

اس سنگ میل کو سرفراز نواز کی انتہائی شاندار اور ڈرامائی سوئنگ بولنگ نے یادگار بنادیا تھا۔

آسٹریلیا کو میچ جیتنے کے لیے 382 رنز کا ہدف ملا تھا۔ ایک موقعے پر اس نے صرف تین وکٹوں کےنقصان پر305 رنز بنا لیے تھے لیکن سرفراز نواز نے 33 گیندوں میں صرف ایک رن کے عوض وکٹیں سات حاصل کرکے آسٹریلوی ٹیم کو 310 رنز پر آل آؤٹ کر دیا۔

سرفراز نواز نے اس اننگز میں 86 رنز دے کر نو وکٹیں حاصل کی تھیں۔

200 واں ٹیسٹ

عامر سہیلImage copyrightGETTY IMAGES

Image captionعامر سہیل نے دبل سنچری والے میچ میں ڈبل سنچری سکور کی تھی

پاکستان کے ٹیسٹ میچوں کی ڈبل سنچری جولائی سنہ 1992 میں انگلینڈ کے خلاف اولڈ ٹریفرڈ میں مکمل ہوئی۔

یہ ٹیسٹ ڈرا ہو گیا تھا۔ پاکستان کی پہلی اننگز میں اوپنر عامر سہیل نے ڈبل سنچری سکور کی اور کپتان جاوید میانداد، رمیز راجہ اور آصف مجتبیٰ نے نصف سنچریاں بنائیں۔

انگلینڈ کی پہلی اننگز میں کپتان گریم گوچ، ڈیوڈ گاور، کرس لوئس اور ای این سالسبری نے نصف سنچریوں سے اس کا جواب دیا تھا، وسیم اکرم نے پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

پاکستان کی دوسری اننگز میں رمیز راجہ ایک بار پھر نصف سنچری سکور کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

300 واں ٹیسٹ

سہواگ اور تنڈولکرImage copyrightGETTY IMAGES

Image caption300 ویں میچ میں انڈیا کے ویریندر سہواگ نے ٹرپل سنچری سکور کی تھی

پاکستان نے اپنا تین سو واں ٹیسٹ میچ مارچ 2004 میں بھارت کے خلاف ملتان میں کھیلا تھا جس میں اسے اننگز اور 52 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس ٹیسٹ میچ میں بھارتی اوپنر وریندر سہواگ نے متعدد کیچ ڈراپ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 309 رنز سکور کیے تھے جبکہ سچن تیندلکر 194رنز بناک ر ناٹ آؤٹ رہے تھے۔

پاکستان کی دوسری اننگز میں یوسف یوحنا نے سنچری بنائی تھی لیکن پاکستانی بیٹسمین انیل کمبلے کی بولنگ کو اعتماد سے کھیلنے میں ناکام رہے تھے جنھوں نے چھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟