14 نومبر 2018
تازہ ترین
 دہشت گردوں  کی پناہ گاہیں ختم کر دیں ، آرمی چیف  

       ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے افغان صدر اشرف غنی کو فون کر کے دوطرفہ سیکورٹی صورتحال اور بارڈر مینجمنٹ سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جبکہ انہوں نے کابل اور قندھار میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس اور گہرے دکھ کا اظہار اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف  نے افغان صدر سے کہا  پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی محفوظ ٹھکانہ باقی نہیں رہا، الزام تراشی سے خطے میں امن کے دشمنوں کو فائدہ ہو گا۔ دونوں ملکوں کے عوام کئی برسوں سے دہشت گردی کا شکار ہیں جس کے خاتمے کے لئے پاکستان، افغانستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف طویل جنگ لڑی ہے، دونوں ممالک کو ضرب عضب کی کامیابیوں کو مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔  دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے موثر بارڈر مینجمنٹ کی اشد ضرورت ہے اور اس کے لئے دہشت گردوں سے متعلق خفیہ اطلاعات کا تبادلہ بھی ضروری ہے۔ پاک فوج کے سربراہ نے کہا آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دہشت گردی کے تمام مراکز تباہ کر دیئے گئے ہیں اور اب پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے کوئی محفوظ ٹھکانے نہیں اس لئے پاکستان اور افغانستان کو مل کر آپریشن ضرب عضب کے نتائج سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔  ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے ٹوئیٹر پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ دہشت گردوں کی سرحد پر نقل و حرکت کو روکنے میں تعاون کرے۔ آرمی چیف نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے موثر بارڈر مینجمنٹ میکنزم اور انٹیلی جنس شیئرنگ کی تجویز بھی پیش کی۔ آرمی چیف اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے افغان حکومت اور عوام کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے لیے پر عزم ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے آرمی چیف جنرل باجوہ کا شکریہ ادا کیا اور خطے کے امن و استحکام کو بہتر بنانے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ اشرف غنی نے اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام کے لئے دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا ہو گا۔  


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟