21 نومبر 2018
تازہ ترین
دنیا کا سب سے خطرناک ویب برائوزر

گوگل ، یاہو، بِنگ، اور اوپیرا جیسے دیگر سرچ انجنز سے تو آپ آشنا ہیں، جو انٹرنیٹ پر موجود کُل مواد کا صرف 5 سے 10 فیصد تک ہی دکھا سکتے ہیں۔ بقیہ 90 سے 95 فیصد مواد ڈارک ویب یا ڈیپ ویب کا حصہ ہوتا ہے جسے آپ کسی بھی سپیشل سافٹ وئیر یا انٹرنیٹ برائوزر کے بنا استعمال نہیں کرسکتے۔ اس تک صرف ہیکرز یا کمپیوٹر ایکسپرٹ ہی رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہم اپنے سیکیورٹی کیمرے ، الارمز، موبائل فون، سمارٹ ٹی وی یہاں تک کہ اب فرج بھی انٹرنیٹ سے کنیکٹ کر کے رکھتے ہیں، جو ڈارک ویب استعمال کرنے والے ہیکرز کیلئے ایک کھلی دعوت ہوتی ہے۔ ٹیک کیپشن کے مطابق سیکیورٹی ایکسپرٹ جان میتھرلی نے ایک ایسا سرچ انجن بنایا ہے جو ان کے مطابق دنیا کا سب سے خطرناک سرچ انجن ہے۔ اس کا نام سسٹم شاک  نامی ایک ویڈیو گیم کے ولن کے نام پر رکھا گیا ہے۔ شوڈان انٹرنیٹ سے جڑے ایچ ٹی ٹی پی ایڈریسز کیلئے بنایا گیا سرچ انجن ہے، جن میں سے زیادہ تر ڈارک ویب سے جڑے ہیں اور گوگل سرچ میں نظر نہیں آتے۔ یہ سسٹم انٹرنیٹ سے جڑے کسی بھی کیمرہ، ریفریجریٹر الارم، ویب کیمز، پہننے والی گھڑیوں اور موبائلز کو آپ کے سرچ میں لا سکتا ہے۔ اس کو تخلیق  کرنے والے انجن آتھرز اس وقت حیران رہ گئے جب اس نے نیوکلئیر پاور پلانٹس، سٹی پاور گرڈ کو کنٹرول کرنے والے کمپیوٹرز، ٹریفک لائٹس اور دیگر ہارڈ وئیرز کو ایچ ٹی ٹی پی ایڈریس کے ذریعے با آسانی ڈھونڈ لیا۔ شوڈان کچھ بھی غیر قانونی نہیں کرتا ، اس کا کام صرف انٹرنیٹ پر موجود لنکس کو جمع کرکے دکھانا ہے۔ لیکن آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک ماہر ہیکر کسی ٹریفک لائٹ، ویب کیم یا پاور پلانٹ کے کمپیوٹر کے  آئی پی ایڈریسز کے ساتھ کیا کچھ کرسکتا ہے۔ خاص طور پر جب یہ ساری چیزیں ایک ڈیفالٹ پاسورڈ یا کم سیکیورٹی لیول پر آپریٹ کی جارہی ہوں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟