16 نومبر 2018
تازہ ترین
دریائی آلودگی اور سیلاب کی خبر دینے والا آلہ

آسٹریلوی انجینئروں نے ایک پائپ نما سادہ آلہ بنایا ہے جو بہتے دریا میں پڑا تیرتا رہتا ہے۔ اس میں موجود حساس آلات ایک جانب تو دریا یا ندی میں پانی کے بہائو کی رفتار نوٹ کرتے رہتے ہیں تو دوسری جانب پانی میں موجود آلودہ اجزا سے فوری طور پر خبردار بھی کرتے رہتے ہیں۔ برسبین، آسٹریلیا میں واقع کوئنزلینڈ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (کیو یو ٹی) کے ماہرین نے اس ایجاد کا نام دی ڈرفٹر رکھا ہے۔ پائپ نما یہ آلہ بظاہر بے کار دکھائی دیتا ہے لیکن ڈرفٹر کو پروفیسر رچرڈ، ڈاکٹر کبیر اور دو دیگر سیٹلائٹ انجینئروں نے مل کر بنایا ہے۔ اس طرح یہ نظام دریائوں میں وقتی طغیانی، آلودگی، الجی کے پھیلائو، پانی کی رفتار اور باقاعدہ سیلاب سے بھی خبردار کرتا ہے جس کے بعد قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ تصویر میں دکھائی دینے والا ایک پی وی سی پائپ ہے جسے کئی برس کی تحقیق کے بعد بنایا گیا ۔ اگر آپ دریا کا بہائو معلوم کرنا چاہتے ہیں تو اسے کچھ دیر کیلئے پانی میں پھینک دیجئے اور وہ فوری طور پر ڈیٹا بھیجنا شروع کر دے گا۔ یہ ایک ہی وقت میں پانی کا بہائو اور مقدار دونوں کی پیمائش کرتا ہے۔ اس طرح کسی بھی مقام سے پانی کا ڈیٹا معلوم کیا جاسکتا ہے جبکہ ڈرفٹر کو ڈور سے باندھ کر یا ڈرون سے لٹکا کر ہر ضروری جگہ کی خبر لی جاسکتی ہے۔ کم خرچ اور سادہ ڈرفٹر سم کارڈ یا بلیو ٹوتھ کے ذریعے ڈیٹا بھیج سکتا ہے۔ اس میں جی پی ایس نظام بھی موجود ہے۔ پانی پر تیرتے ہوئے یہ ایک سے دو سینٹی میٹر باہر نکلے ہوتے ہیں تاکہ ہوا کے بجائے پانی کی ولاسٹی ٹھیک طرح سے معلوم کی جاسکے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟