17 نومبر 2018
تازہ ترین
دبئی: پاکستان اور ویسٹ انڈیز آج مدِ مقابل

پاکستانی کرکٹ ٹیم جمعرات یعنی آج سے ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آعاز کر رہی ہے اور ٹی 20 اور ون ڈے میں وائٹ واش کے بعد ٹیسٹ سیریز میں بھی فیورٹ سمجھی جا رہی ہے۔

پاکستانی ٹیم آج سہ پہر اپنا 400 واں ٹیسٹ میچ کھیلے گی اور یہ ٹیسٹ اس لحاظ سے بھی تاریخی ہے کہ یہ پاکستان کا پہلا ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچ ہو گا جو گلابی گیند سے کھیلا جائے گا۔

پاکستان نے اب تک کھیلے گئے 399 ٹیسٹ میچوں میں 128 جیتے ہیں، 113 میں اسے شکست ہوئی ہے اور 158 ٹیسٹ بےنتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔

اس سے قبل آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان گذشتہ سال ایڈیلیڈ میں دنیا کا پہلا ڈے نائٹ ٹیسٹ کھیلا گیا تھا جس میں گلابی گیند استعمال ہوئی تھی۔

پاکستانی ٹیم کو دبئی ٹیسٹ میں تجربہ کار بلےباز یونس خان کی خدمات حاصل نہیں جو ڈینگی بخار میں مبتلا ہونے کے بعد ابھی تک مکمل فٹ نہیں ہو سکے۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک روزہ سیریز کے تینوں میچوں میں سنچریاں بنانے والے بابراعظم اور لیفٹ آرم سپنر محمد نواز اپنے ٹیسٹ کریئر کا آغاز کریں گے۔

پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کو قابو کرنے کے لیے اپنے فتح گر بولر یاسر شاہ پر انحصار کرے گی۔ یاسر شاہ 16 ٹیسٹ میچوں میں 95 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں اور اب ان کی نظر اپنی وکٹوں کی سینچری پر ہے۔

مصباحImage copyrightAFP

Image captionمصباح الحق کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم کی سب سے بڑی خوبی خوداعتمادی ہے

ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کے سب سے کامیاب کپتان مصباح الحق کے خیال میں موجودہ ٹیم کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ اس کی خود اعتمادی ہے۔

مصباح الحق نے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بحیثیت کپتان جب وہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں تو سنہ 2010 میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز کبھی نہیں بھول سکتے جس نے انھیں اور پوری ٹیم کو نیا حوصلہ دیا تھا۔

مصباح الحق کی قیادت میں پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے دورے میں ٹیسٹ سیریز برابر کرکے ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی نمبر ایک بنی تھی۔ تاہم اب بھارتی ٹیم نیوزی لینڈ کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر ہرا کر عالمی نمبر ایک بن گئی ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟