دالیں کھانے سے شوگر میں 20فیصد تک کمی

 ذیابیطس کے معالجین نے ایک سروے کے بعد کہا ہے کہ اگر شوگر کے مریض آلو اور چاول کی جگہ دالیں کھائیں تو اس سے خون میں شکر کی مقدار کو بہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ یونیورسٹی آف گیلف کے ماہرین نے کہا ہے کہ اگر آلو چاول ترک کرکے ان کی جگہ دالیں استعمال کی جائیں تو خون میں شکر کی مقدار 20 فیصد تک کم کی جاسکتی ہے۔ یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر ایلیسن  ڈنکن اور ان کے ساتھی کہتے ہیں کہ دالیں بدن میں کاربو ہائیڈریٹس جذب کرنے کے عمل کو بہتر کرتی ہیں، اگر شوگر کے مریض آلو اور چاول کی جگہ دالیں کھائیں تو خون میں شکر کی کمی 35 فیصد تک کم کی جاسکتی ہے۔ اس سٹڈی کی تفصیلات جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہوئی، جس کے بعد کھانے میں مونگ، مسور اور چنے کی دالوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ۔ سٹڈی میں شامل ڈاکٹر ایلیسن نے کہا کہ  دالیں غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں ، جو ذیابیطس اور گلوکوز سے وابستہ بیماریوں کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مطالعے میں 24 صحت مند بالغ افراد کو شامل کیا گیا ، جنہیں چار طرح کے کھانے دیئے گئے۔ ایک گروہ کو سفید چاول کھلائے گئے، دوسرے کا پیالہ آدھے چاول اور آدھا بڑی سبز دالوں سے بھرا گیا، تیسرے گروہ کو چاول اور چھوٹی سبز دالیں دی گئیں ، جبکہ چوتھے گروہ کو رنگ برنگی دالوں کے ساتھ چاول دیئے گئے۔ کھانے سے قبل اور دو گھنٹے بعد تمام شرکا کے خون میں شکر کی پیمائش کی گئی۔ اس کے علاوہ شرکا کو صرف آلو اور آلو کے ساتھ دالیں بھی کھانے کو دی گئیں۔ جن شرکا کو دالیں کھلائی گئیں چاول اور آلو کے مقابلے میں ان کے خون میں 20 فیصد کم شوگر نوٹ کی گئی اور صرف دالیں کھانے والوں میں یہ شرح 35 فیصد تک دیکھی گئی۔ پروفیسر ایلیسن کے مطابق دالیں دھیرے دھیرے ہضم ہوتی ہیں اور اس طرح خون میں شکر کی مقدار نہیں بڑھتی۔ اس بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ دالیں کھانے کی عادت ٹائپ ٹو ذیابیطس کو روکنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟