19 ستمبر 2018
خوشگوار یادوں سے ڈپریشن کا علاج

ماہرین کے مطابق مایوسی اور ڈپریشن میں مبتلا شخص کے دماغ میں اصلی یا مصنوعی خوشگوار یادیں شامل کرنے یا اسے دہرانے سے اسے اس مرض سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ بین الاقوامی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق امریکا کے میسا چیوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے چوہوں کے دماغ میں مصنوعی طور پر اچھی یادیں شامل کرکے ڈپریشن اور اداسی کو دور کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ۔ اگر یہ تجربہ انسانوں پر بھی کامیاب ہوگیا تو اس کی مدد سے ایسی موثر دوائیں تیار کی جاسکیں گی، جو پورے دماغ پر اثر کرتے ہوئے ڈپریشن جیسے مرض کا جڑ سے ہی خاتمہ کرنے کے قابل ہوں گی۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈاکٹر سٹیو رامریز نے کہا کہ ڈپریشن کے علاج کے لئے ہمیں مریض کی مخصوص یادداشت کو مصنوعی طور پر دوبارہ سرگرم کرنا ہوگا۔ جانوروں پر تحقیق سے حاصل کئے گئے نتائج کی مدد سے ماہرین جلد ہی یہ جان سکیں گے کہ انسان کے دماغ میں موجود خوشگواریادوں کو کیسے سرگرم کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب ماہرین کے مطابق مایوسی اور اداسیوں میں گھرے شخص کے دماغ میں خوشگوار یادیں دہرانے سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ڈپریشن کی وجہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟