24 مئی 2019
تازہ ترین
خوراک کی تبدیلی سے شوگر کا علاج ممکن

خوراک کی تبدیلی سے شوگر کا علاج ممکن

شوگر کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ لاعلاج ہے اور جس شخص کو ایک بار لاحق ہو جائے پھر تمام عمر وہ انسولین کے انجکشنز کے سہارے ہی گزارتا ہے۔ تاہم طبی ماہرین شوگر کو سرے سے مرض ہی نہیں سمجھتے بلکہ وہ اسے ایک کنڈیشن خیال کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ طرز زندگی اور خوراک میں کچھ تبدیلیاں لا کر اس کنڈیشن سے نجات پائی جاسکتی ہے۔ اگر اس سے مکمل طور پر چھٹکارا نہ بھی ہو تو بہرحال اس قدرکم ضرور کی جا سکتی ہے کہ انسان نارمل زندگی گزار سکے۔ برطانوی ڈاکٹر نے معروف شیف کے ساتھ مل کر ایک ایسا ڈائٹ پلان تیار کیا ہے، جس سے اب تک درجنوں شوگر کے مریض مکمل شفایاب ہو چکے ہیں اور سینکڑوں کی شوگر کی شدت بہت کم ہو چکی ہے۔ ڈائٹ پلان میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار بہت کم ہے اور اس سے وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور اس کے نتیجے میں شوگر کے مرض کی شدت کم ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ڈیوڈ نے کہا ہے کہ اب تک میں اپنے سینکڑوں مریضوں کو اس ڈائٹ پلان پر عمل کروا چکا ہوں اور ان کا 20 ماہ میں اوسطاً 9 کلوگرام وزن کم ہوا۔ اب میرا یہ ڈائٹ پلان رائل کالج آف جنرل پریکٹیشنرز میں پڑھایا جا رہا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق اپنی خوراک سے شوگر اور سٹارچی کاربوئیڈریٹس کے حامل کھانوں کو مکمل ختم یا انتہائی کم کر دیں۔ ان اشیا میں ناشتے میں استعمال ہونے والے دلیے، بریڈ، پاستہ، سفید آلو، چاول، کیک، رائس کیک، بسکٹس، مٹھائیاں، ملک چاکلیٹ، پھلوں کا جوس، شوگری مشروبات وغیرہ شامل ہیں۔ ہر کھانے میں سبزیاں زیادہ سے زیادہ کھائیں، ان میں بھی ایسی سلاد میں استعمال ہونے والی سبزیاں کھائیں جن میں نشاستہ (Starch)نہیں ہوتا۔ ان سبزیوں میں شاخ گوبھی (Broccoli) ، توری (courgette)، مونگرے (Green beans)، بینگن، بند گوبھی اور دیگر شامل ہیں۔ ان سبزیوں کے کھانے سے آپ کو پیٹ بھرا ہونے کا احساس ہو گا اور بلڈ شوگر لیول بھی نہیں بڑھے گا۔ اچھی چکنائیاں کھائیں، جن میں تیل والی مچھلی، زیتون کا تیل، ناریل کا تیل، مگر ناشپاتی اور جانوروں سے حاصل ہونے والی چکنائیاں شامل ہیں۔ کھانے میں مناسب حد تک خشک میوہ جات اور پنیر کا استعمال بھی کریں۔ پھلوں میں صرف ایسے پھلوں کا انتخاب کریں جن میں قدرتی طور پر شوگر کم ہوتی ہے۔ ان پھلوں میں بیریز (Berries)، سیب اور ناشپاتی وغیرہ شامل ہیں۔ کیلے اور آم جیسے پھلوں کی بجائے اس طرح کے پھل کھائیں۔ ہر کھانے میں کچھ پروٹین بھی لیں کیونکہ یہ جسم میں رونما ہونے والے بگاڑ کر درست کرنے والے میکانزم کے لئے ضروری ہیں اور انہیں لینے سے آپ کو تادیر بھوک بھی نہیں لگے گی۔ ناشتہ، دوپہر اور رات کے کھانوں کے درمیان کھانا ترک کر دیں۔ دن میں تین بار اچھا کھانا کھائیں۔ اس سے آپ کے جسم میں انسولین کی مزاحمت بہتر ہو گی۔ روزانہ 2 لیٹر پانی پیئں۔ کسی غذائی ماہر یا شیف سے مشورہ کرکے کھانوں کی ایسی تراکیب حاصل کریں جن میں کاربوہائیڈریٹس بہت کم پائے جاتے ہوں اور وہ کھانے مزیدار بھی ہوں اور پھر صرف وہی کھانے ہی کھائیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟